کراچی میں آن لائن منشیات فروشی کا خطرناک نیٹ ورک بے نقاب، 70 ڈیلرز سرگرم ہونے کا انکشاف

33

کراچی: شہر قائد میں آن لائن منشیات فروشی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے متعلق قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ایک اہم رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی میں کم از کم 70 آن لائن منشیات فروش سرگرم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ گروہ سوشل میڈیا اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں تک منشیات پہنچا رہے ہیں۔

رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد شہریوں، والدین اور تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ مبینہ طور پر اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے منشیات سپلائی

قانون نافذ کرنے والے ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منشیات فروش جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا ایپس کا استعمال کرتے ہوئے آئس، کرسٹل اور ویڈ جیسی خطرناک منشیات فروخت کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورکس نوجوانوں سے آن لائن رابطہ کرتے ہیں اور پھر مختلف علاقوں میں خفیہ انداز میں منشیات کی سپلائی کی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے منشیات فروشی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج بنتی جا رہی ہے کیونکہ اس میں روایتی جرائم کے مقابلے میں نگرانی زیادہ مشکل ہوتی ہے۔

انمول عرف پنکی کا نام بھی شامل

رپورٹ میں مبینہ ہائی پروفائل منشیات فروش انمول عرف پنکی کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انمول پنکی درخشاں تھانے کی حدود میں بڑے پیمانے پر آن لائن منشیات کے کاروبار میں ملوث بتائی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں انمول پنکی کا نام کراچی کے مبینہ منشیات نیٹ ورک کے حوالے سے خبروں میں نمایاں رہا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ آن لائن منشیات فروشی کے اس نیٹ ورک کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں اور کئی اہم شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

خواتین بھی منشیات نیٹ ورک میں سرگرم

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آن لائن منشیات فروشی کے اس کاروبار میں خواتین بھی مبینہ طور پر سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صدر تھانے کی حدود میں سمیرہ عرف بے بی نامی خاتون مبینہ طور پر آن لائن منشیات کا بڑا نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ اسی طرح سائٹ اے تھانے کی حدود میں لال جان اور مہرالنساء عرف بیبل نامی خواتین کے بھی اس غیرقانونی دھندے میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق خواتین کی شمولیت کی وجہ سے بعض اوقات کارروائیاں مزید پیچیدہ ہو جاتی ہیں کیونکہ نیٹ ورک انتہائی منظم انداز میں کام کرتا ہے۔

کراچی کے کون سے اضلاع زیادہ متاثر؟

رپورٹ کے مطابق کراچی کے مختلف اضلاع میں آن لائن منشیات فروشوں کی تعداد درج ذیل ہے:

ڈسٹرکٹ ساوتھ میں 45 منشیات فروش

ڈسٹرکٹ سٹی میں 3
ملیر میں 2
ویسٹ میں 5
ایسٹ میں 4
کیماڑی میں 4
ڈسٹرکٹ سینٹرل میں 7 منشیات فروش سرگرم ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈسٹرکٹ ساوتھ آن لائن منشیات فروشی کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں تعلیمی اداروں اور پوش علاقوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

نوجوان نسل کے لیے خطرہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس اور کرسٹل جیسی منشیات نوجوان نسل کے لیے انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ یہ ذہنی اور جسمانی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔

تعلیمی اداروں میں منشیات کی بڑھتی ہوئی رسائی والدین اور اساتذہ کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ کئی سماجی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی مہم چلائی جائے اور آن لائن منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

کارروائیوں میں تیزی کا امکان

رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر بھر میں آن لائن منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کئی مشتبہ افراد کی نگرانی پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے جبکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور آن لائن سرگرمیوں کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت سخت اقدامات نہ کیے گئے تو آن لائن منشیات فروشی نوجوان نسل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں