رپورٹ ۔۔۔۔۔فضہ حسین
سپریم کورٹ آف پاکستان کا واضح پیغام: حکومت عدالت میں عام شہری کے برابر، تاخیر پر کوئی خصوصی رعایت نہیں ملے گی
ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک نہایت اہم مقدمے میں وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کو زائد المعیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، ساتھ ہی عدالت نے تاخیر کو معاف کرنے کی حکومتی درخواست بھی مسترد کر دی۔ اس فیصلے میں عدالت نے یہ اصولی مؤقف اختیار کیا کہ ریاستی ادارے یا حکومت عدالت کے سامنے کسی خصوصی رعایت یا استثنا کے مستحق نہیں ہوتے بلکہ انہیں بھی وہی قانونی طریقہ کار اور ضوابط اپنانے ہوتے ہیں جو ایک عام شہری کے لیے لازم ہیں۔
یہ تحریری فیصلہ سپریم کورٹ کی معزز جج جسٹس عائشہ ملک کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ حکومت کو عدالت میں عام شہری کے برابر حیثیت حاصل ہوتی ہے اور اسے بھی قانون کی پاسداری اسی طرح کرنا ہوگی جیسے کسی فردِ واحد کو کرنا پڑتی ہے۔ فیصلے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اگر ریاست اپنے شہریوں کو قانون پر عملدرآمد کا پابند بناتی ہے تو خود بھی اسے اسی معیار پر پورا اترنا ہوگا اور کسی قسم کی انتظامی مشکلات یا اندرونی رکاوٹوں کو جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کے روبرو وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ متعلقہ افسر کے تبادلے کے باعث اپیل کی فائل دفتر میں رہ گئی جس کے نتیجے میں اپیل دائر کرنے میں تاخیر ہوئی۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور قرار دیا کہ سرکاری افسران کی کمی، تبادلے یا کمیٹیوں کے اجلاس کا بروقت انعقاد نہ ہونا حکومت کی اپنی انتظامی ناکامی ہے، جس کا بوجھ عدالت یا دوسرے فریق پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دفتری قواعد، انتظامی پیچیدگیاں یا بیوروکریسی کے اندرونی مسائل کسی بھی صورت میں قانونی مدت کی پابندی سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ قانون کی نظر میں وقت کی پابندی نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اس سے انحراف کسی بھی فریق کے لیے قابلِ قبول نہیں، خواہ وہ ایک عام شہری ہو یا ریاستی ادارہ۔ عدالت نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ بیوروکریسی کی سستی یا نااہلی کی سزا کسی دوسرے فریق کو دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
دستاویزی ریکارڈ کے مطابق وفاقی حکومت نے اپیل مقررہ 60 دن کی قانونی مدت ختم ہونے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے دائر کی تھی، جس پر تاخیر معاف کرنے کی درخواست بھی جمع کروائی گئی تھی۔ عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ قانون پر عملدرآمد افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ ادارہ جاتی نظم و ضبط اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس اصول کو بھی نمایاں کیا کہ ریاست اپنی انتظامی نااہلی یا سسٹم کی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر عدالتی کارروائی میں رعایت حاصل نہیں کر سکتی۔ اگر عدالت ایسے جواز کو قبول کر لے تو یہ نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا بلکہ عام شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف بھی ہوگا، جو قانون کے سامنے برابری کے بنیادی تصور کو متاثر کرتا ہے۔
یہ فیصلہ دراصل حکومتی اداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ عدالت میں پیشی کے دوران انہیں کسی قسم کا خصوصی پروٹوکول یا رعایت حاصل نہیں ہوگی۔ ریاست اور شہری دونوں قانون کے سامنے برابر ہیں اور کسی کو بھی اس سے بالاتر حیثیت حاصل نہیں۔ عدالت نے اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ سرکاری معاملات میں بروقت فیصلے اور اقدامات کیے جائیں تاکہ عدالتی عمل میں تاخیر جیسے مسائل پیدا نہ ہوں۔
عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو قانونی ماہرین کی جانب سے انصاف کے اصولوں کی مضبوطی اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف حکومتی اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت کے سامنے تمام فریقین یکساں حیثیت رکھتے ہیں اور کسی کو بھی اپنی انتظامی کوتاہیوں کی بنیاد پر رعایت حاصل کرنے کا حق نہیں۔
مجموعی طور پر، اس فیصلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عدالتوں میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقین، بشمول حکومت، کو مقررہ قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کرنا ہوگی، کیونکہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر فرد اور ادارہ قانون کے سامنے برابر ہو۔