عمران خان کی صحت پر تشویش: بینائی 85 فیصد متاثر ہونے کا دعویٰ

16

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما Salman Akram Raja نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی Imran Khan کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ملاقاتوں سے متعلق صورتحال

بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج عمران خان کی پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کا دن ہے، اور Islamabad High Court کے لارجر بینچ کی جانب سے ملاقات کروانے کا فیصلہ بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں بند ہیں اور پولیس مختلف رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں جیل تک پہنچنے سے روکتی ہے۔

قید تنہائی اور صحت کے مسائل

سلمان اکرم راجہ کے مطابق عمران خان کو روزانہ تقریباً 22 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، جو انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے، جس میں بینائی کا مسئلہ خاص طور پر تشویشناک ہے۔

بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق دعویٰ

پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی اہلیہ Bushra Bibi کو رات کے وقت اسپتال منتقل کر کے سرجری کی گئی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

سیاسی مؤقف اور ہدایات

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ان کے مطابق 90 فیصد پاکستانی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور پارٹی اس نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت ہے کہ Mahmood Khan Achakzai اور Allama Raja Nasir Abbas کی قیادت میں آگے بڑھا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل نہ آنے والے پارٹی رہنماؤں کے نام بھی منظر عام پر لائے جائیں گے۔

دیگر رہنماؤں کا ردعمل

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما Ali Muhammad Khan نے کہا کہ پاکستان ایک سیاست دان اور وکیل نے بنایا تھا، اور اس وقت ملک کا ایک سابق وزیراعظم اڈیالہ جیل میں قید ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو رہا کیا جائے اور کارکنان کو ہدایت دی کہ وہ پارٹی قیادت کے احکامات پر عمل کریں۔

احتجاج اور قانونی حکمت عملی

علی محمد خان نے کہا کہ احتجاج کی کال محمود خان اچکزئی دیں گے، جبکہ حکومت اور مقتدرہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ مذاکرات کریں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آج سے ہر منگل اور جمعرات کو توہین عدالت کی درخواستیں دائر کی جائیں گی، تاکہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے انصاف حاصل کیا جا سکے۔

نتیجہ

پی ٹی آئی قیادت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی اپنے قائد کی صحت، قانونی صورتحال اور سیاسی جدوجہد کے حوالے سے متحرک ہے۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر سیاسی اور قانونی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں