Tel Aviv: Israel اور Iran کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا سے اسلحہ اور جنگی سامان لے کر آنے والے درجنوں فوجی کارگو طیارے اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد اسرائیلی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
امریکی فوجی کارگو طیاروں کی آمد
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکی فوجی کارگو طیاروں کی بڑی تعداد اسرائیل پہنچی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ طیارے جرمنی میں قائم امریکی فوجی اڈوں سے روانہ ہوئے تھے اور ان میں بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی ساز و سامان موجود تھا۔
ذرائع کے مطابق امریکی فوجی سامان کو فوری طور پر اسرائیلی فوج کے گوداموں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری استعمال ممکن بنایا جا سکے۔
اسرائیلی فوج کو ہائی الرٹ
اسرائیلی ٹی وی Channel 13 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کو ممکنہ جنگی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کے لیے اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں اور فوجی اداروں کو ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوجی تنصیبات، ایئر ڈیفنس سسٹمز اور حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاری
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور فوجی قیادت ایران کے خلاف ممکنہ جنگی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اسرائیل اپنی دفاعی اور حملہ آور صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
Israel Defense Forces کی جانب سے اگرچہ باضابطہ طور پر کسی بڑی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فوجی تیاریوں میں تیزی واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
امریکا کی اسرائیل کو مسلسل حمایت
امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون طویل عرصے سے جاری ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کو فوجی اور دفاعی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی اسلحہ بردار طیاروں کی آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
خطے میں تشویش کی لہر
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم ہوا تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
عالمی برادری کی نظریں صورتحال پر مرکوز
بین الاقوامی سطح پر بھی ایران اسرائیل کشیدگی کو انتہائی اہمیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ممکنہ جنگی خطرات کے پیش نظر خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔