اسلام آباد (ذرائع)
پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں اور مبینہ کامیاب ثالثی کے تناظر میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا آئندہ چند روز میں چین کا اہم ترین دورہ متوقع ہے۔ سفارتی اور سیاسی حلقوں میں اس دورے کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں نہ صرف پاک چین تعلقات بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی مشاورت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اس دورے کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور سفارتی ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ دورہ موجودہ علاقائی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
دورے کی اہمیت اور پس منظر
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ پاکستان نے اس دوران ایک فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے جس کے تحت مبینہ طور پر ثالثی کے عمل میں پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔
اسی تناظر میں صدر آصف علی زرداری چین کی اعلیٰ قیادت کو ان پیش رفتوں سے آگاہ کریں گے اور پاکستان کے مؤقف اور کوششوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیں گے۔
چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں
دورے کے دوران صدر مملکت کی چین کے صدر شی جن پنگ اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ملاقاتوں کا مرکزی ایجنڈا پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کو آگے بڑھانا ہوگا۔
سی پیک کے اگلے مرحلے پر پیش رفت
دورے کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے اگلے مرحلے پر بھی خصوصی بات چیت متوقع ہے۔ اس مرحلے میں صنعتی ترقی، خصوصی اقتصادی زونز، توانائی کے منصوبے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر بھی غور کریں گے کہ سی پیک کو مزید وسیع کرتے ہوئے اسے علاقائی رابطہ کاری کے ایک بڑے منصوبے میں تبدیل کیا جائے۔
خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو
صدر مملکت کے دورے میں افغانستان کی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور مجموعی علاقائی سیکیورٹی پر بھی تفصیلی مشاورت ہوگی۔ پاکستان اور چین پہلے ہی خطے میں امن کے لیے ایک “پانچ نکاتی امن فارمولا” پر اصولی اتفاق کر چکے ہیں، جسے اس دورے میں مزید آگے بڑھانے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اس فارمولے کا مقصد خطے میں تنازعات کے پرامن حل، سفارتی رابطوں کے فروغ اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
اقتصادی تعاون کے نئے مواقع
دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر بھی بات چیت ہوگی۔ خاص طور پر زراعت، جدید ٹیکنالوجی، توانائی، صنعت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق چین پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ پاکستان بھی اپنی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے چینی تعاون کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔
سفارتی ذرائع اور سیاسی حلقوں کا مؤقف
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کا یہ دورہ محض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے جو پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری اس دورے میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کریں گے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو اجاگر کریں گے۔
خطے میں پاکستان کے کردار کو اہمیت
ذرائع کے مطابق حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے پاکستان کو خطے میں ایک اہم ثالثی کردار میں نمایاں کیا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چین اس پورے عمل میں پاکستان کے کردار کو اہمیت دیتا ہے اور اسی وجہ سے یہ دورہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
آئندہ لائحہ عمل
ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے اختتام پر ممکن ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ اعلامیہ جاری کریں جس میں خطے میں امن، اقتصادی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مستقبل کے لیے ایک واضح روڈ میپ بھی متوقع ہے جس میں سی پیک کے نئے منصوبے اور علاقائی تعاون کے نئے فریم ورک شامل ہوں گے۔
نتیجہ
صدر مملکت آصف علی زرداری کا متوقع دورہ چین موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف پاک چین تعلقات کو نئی سمت دے سکتا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔