ایران پر ممکنہ امریکی حملہ مؤخر: پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں

35

واشنگٹن (22 اپریل 2026):

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی درخواست پر ایران پر ممکنہ بڑے فوجی حملے کو ایک بار پھر مؤخر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے وقتی طور پر جنگ کے خطرات میں کمی آئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی میں توسیع کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے فیلڈ مارشل (آرمی چیف) جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن کو موقع فراہم کرنا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت جاری کی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوری فوجی کارروائی کو روک دیا جائے، تاہم ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی جائے گی تاکہ دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق امریکی افواج کو ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کی موجودہ حکومت اندرونی طور پر شدید دباؤ اور بحران کا شکار ہے، اس کے باوجود عالمی برادری اور خاص طور پر پاکستان کی جانب سے یہ درخواست کی گئی کہ فوری حملے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی تجاویز پیش کرے اور مذاکرات کے ذریعے کسی حل تک پہنچا جائے۔

انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کی مدت کو اس وقت تک بڑھایا جائے گا جب تک ایران کی جانب سے باضابطہ تجاویز سامنے نہیں آتیں اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام بھی کرے گا۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد کے اسلام آباد جانے کا فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔

ترجمان نے امریکی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی، ایرانی جہاز پر قبضہ اور صدر ٹرمپ کے بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا، تاہم امریکی حکام کی جانب سے غیر سنجیدہ رویہ دیکھنے میں آیا۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے تحت فیصلے نہیں کرے گا اور اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق اگر امریکا واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنے اقدامات پر نظرثانی کرنا ہوگی اور اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں اس وقت نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ اسلام آباد کی سفارتکاری نے نہ صرف امریکا کو فوری حملے سے روکنے میں کردار ادا کیا بلکہ ایران کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں ایک بڑے تصادم کو ٹالا جا سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے اور کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی، سمندری راستے اور خطے کی مجموعی سلامتی اس صورتحال سے براہ راست متاثر ہو سکتی ہے۔

فی الحال دنیا کی نظریں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر مرکوز ہیں۔ اگر دونوں ممالک سنجیدگی کے ساتھ بات چیت جاری رکھتے ہیں تو ایک بڑے بحران سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے، تاہم کسی بھی قسم کی غلطی یا اشتعال انگیزی صورتحال کو ایک بار پھر جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

اختتامیہ

امریکی صدر کی جانب سے حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ بظاہر وقتی سکون کا باعث بنا ہے، مگر اصل امتحان آنے والے دنوں میں ہوگا جب ایران کی تجاویز سامنے آئیں گی اور مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں اس مرحلے پر کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں، جو خطے کے امن کے لیے امید کی ایک کرن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں