ٹرمپ کا ایران سے متعلق بڑا بیان: جنگ بندی میں فوری دباؤ یا وقت کی پابندی نہیں

40

امریکا اور ایران مذاکرات میں تعطل، نئی تاریخ کے اعلان میں کوئی جلدی نہیں

واشنگٹن (23 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے میں کوئی ’’فوری دباؤ یا وقت کی پابندی‘‘ موجود نہیں ہے، اور 12 اپریل کو مذاکرات رکنے کے بعد ایران کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے نئی تاریخ طے کرنے میں بھی کوئی جلدی نہیں کی جا رہی۔

جنگ بندی کی مدت غیر معینہ طور پر بڑھا دی گئی، 3 سے 5 دن کی رپورٹس غلط قرار

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کی مارتھا میک کالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ایران کے ساتھ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق میڈیا میں سامنے آنے والی وہ رپورٹس غلط ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی صرف 3 سے 5 دن تک محدود ہوگی۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، امریکی مؤقف سامنے آگیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی تبصرہ کیا کہ بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے کچھ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے یا قبضے میں لینے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’’وہ امریکی جہاز نہیں تھے‘‘ اور کہا کہ امریکا اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی بحریہ کے وزیر جان سی فیلن عہدے سے ہٹا دیے گئے

اسی تناظر میں امریکی بحریہ کے وزیر جان سی فیلن کو عہدے سے ہٹائے جانے کی بھی تصدیق سامنے آئی ہے، جسے موجودہ خطے کی کشیدہ صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔

جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں، ٹرمپ کا واضح مؤقف

جنگ کے خاتمے کے وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس کے لیے کوئی ’’مقررہ وقت‘‘ نہیں اور نہ ہی کوئی جلد بازی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’لوگ کہتے ہیں کہ میں یہ سب مڈٹرم انتخابات کی وجہ سے ختم کرنا چاہتا ہوں، یہ درست نہیں۔ ہم امریکی عوام کے لیے ایک اچھا معاہدہ چاہتے ہیں۔‘‘

ایران پر دباؤ کی حکمت عملی، ناکہ بندی کو سب سے مؤثر ہتھیار قرار دیا

ٹرمپ نے ایران کی حکومت کے بارے میں کہا کہ ان کے لیے ناکہ بندی بمباری سے زیادہ خوفناک ہے۔ ان کے مطابق ایران برسوں سے بمباری برداشت کرتا آیا ہے لیکن معاشی اور بحری ناکہ بندی ان کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تیل کے کنویں ایک بار بند ہو جائیں تو بعض اوقات وہ دوبارہ کبھی نہیں کھلتے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ذہین شخص قرار دیا گیا

صدر ٹرمپ نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ’’ایک ذہین آدمی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ جب دوبارہ مذاکرات شروع ہوں گے تو وہ اب بھی اپنی پوزیشن پر موجود ہوں گے اور بات چیت کا حصہ بنیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں