اسلام آباد: حکومت کی ٹیکس ریلیف دینے کی تیاری
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے تنخواہ دار طبقے اور کاروباری افراد کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف خود ریلیف کیلئے متحرک
وفاقی وزیر نے کہا کہ شہباز شریف کو اس بات کا مکمل احساس ہے کہ تنخواہ دار طبقہ اس وقت سب سے زیادہ ٹیکس بوجھ برداشت کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم خود آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں عوام کو ریلیف دلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ٹیکس کی شرح کو مناسب سطح تک کم کیا جا سکے۔
احسن اقبال کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ متوسط طبقے کو زیادہ سے زیادہ سہولت دی جائے تاکہ ان کی مالی مشکلات میں کمی آسکے۔
زیادہ ٹیکس سے معیشت متاثر ہونے کا اعتراف
وفاقی وزیر نے اعتراف کیا کہ ٹیکسوں کی بلند شرح کے باعث ملک میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کاروبار پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے تو سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور معیشت سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔
اسی وجہ سے حکومت آئندہ بجٹ میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کو اولین ترجیح دے رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جا سکے۔
برآمدی شعبے کیلئے خصوصی پیکج متوقع
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں برآمدی شعبے کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹرز کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور رعایتیں دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔
وفاقی وزیر کے مطابق خاص طور پر آئی ٹی ایکسپورٹس کے فروغ کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں میں مؤثر اصلاحات کی گئیں تو پاکستان کی معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ترقیاتی بجٹ میں فنڈز کی کمی بڑا چیلنج
احسن اقبال نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مالی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف وزارتوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے تقریباً 3 ہزار ارب روپے کے فنڈز طلب کیے ہیں، تاہم آئندہ مالی سال میں ترقیاتی بجٹ کا حجم تقریباً 1125 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی شدید کمی کے باعث حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا پڑے گا۔
آئی ایم ایف کی اہم شرط
وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صوبوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو وفاقی حکومت کے بجائے صوبائی ترقیاتی بجٹ سے فنڈ کیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ شرط مکمل طور پر نافذ ہوتی ہے تو صوبوں پر مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
عوام کیلئے ریلیف کی امید
احسن اقبال نے امید ظاہر کی کہ حکومت کے معاشی اقدامات سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی معیشت بھی استحکام کی جانب بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیکس نظام کو متوازن بنایا جائے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ کم ہو اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔
نتیجہ
آئندہ بجٹ سے متعلق حکومتی اشاروں نے تنخواہ دار طبقے اور کاروباری افراد میں امید پیدا کر دی ہے۔
اگر حکومت واقعی ٹیکس کی شرح میں کمی اور کاروباری شعبے کیلئے سہولتوں کا اعلان کرتی ہے تو اس سے نہ صرف معیشت میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ عام آدمی کو بھی کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
اب تمام نظریں آئندہ بجٹ پر مرکوز ہیں کہ حکومت عوامی توقعات پر کس حد تک پورا اترتی ہے۔