امریکی صدر Donald Trump نے امریکی شہر San Diego میں اسلامک سینٹر پر فائرنگ کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا ایسے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل تحقیقات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سان ڈیاگو میں پیش آنے والا واقعہ تشویشناک ہے اور اس حوالے سے سکیورٹی ادارے متحرک ہیں۔
ایران کے حوالے سے ٹرمپ کا سخت مؤقف
صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران ایران کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس نہ مؤثر ایئر فورس ہے اور نہ ہی مضبوط بحریہ۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت ختم ہوچکی ہے اور اب وہاں تیسرے درجے کی قیادت باقی رہ گئی ہے۔
Iran کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس کے تحت ایران کے پاس کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’’ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار کسی صورت نہیں ہونے چاہئیں۔‘‘
سان ڈیاگو مسجد فائرنگ پر تحقیقات جاری
رپورٹس کے مطابق سان ڈیاگو میں اسلامک سینٹر پر فائرنگ کے واقعے کے بعد مقامی پولیس اور وفاقی اداروں نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
واقعے کے بعد امریکی مسلم کمیونٹی میں تشویش پائی جارہی ہے جبکہ مختلف تنظیموں کی جانب سے عبادت گاہوں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔
واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جارہا ہے جبکہ حکام نے عوام سے افواہوں پر یقین نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایبولا وائرس سے متعلق بیان
صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران ایبولا وائرس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ وائرس اس وقت افریقہ تک محدود ہے اور امریکا کو اس سے فوری خطرہ لاحق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ادارے صحت کے معاملات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
عالمی سطح پر ردعمل
ٹرمپ کے حالیہ بیانات عالمی میڈیا میں بھی توجہ حاصل کررہے ہیں، خاص طور پر ایران سے متعلق ان کے سخت مؤقف اور سان ڈیاگو فائرنگ واقعے پر ردعمل کو نمایاں کوریج دی جارہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انتخابات کے ماحول میں قومی سلامتی، مذہبی آزادی اور خارجہ پالیسی جیسے موضوعات ایک بار پھر اہمیت اختیار کررہے ہیں۔