رپورٹ۔۔۔۔ فضہ حسین
لائیو شو میں شعیب اختر کا بھارتی اینکر کو دو ٹوک جواب، اسپورٹس کو سیاست سے دور رکھنے پر زور
پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر اور دنیا بھر میں “راولپنڈی ایکسپریس” کے نام سے مشہور شعیب اختر ایک بھارتی ٹی وی پروگرام کے دوران اس وقت جذباتی دکھائی دیے جب کھیل اور سیاست کے امتزاج پر گفتگو شروع ہوئی۔ لائیو شو میں انہوں نے بھارتی خاتون اینکر کو واضح اور دو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے اور اگر اسپورٹس کے میدان میں آنا ہے تو کم از کم بنیادی اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ ضرور ہونا چاہیے۔
پروگرام کے دوران گفتگو کا آغاز کرکٹ تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان میچز کے حوالے سے ہوا۔ شعیب اختر نے کہا کہ وہ حال ہی میں انڈر 19 کا میچ دیکھنے گئے تھے جہاں انہوں نے بھارتی کپتان روہت شرما کی تعریف بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع پر مثبت مثالیں قائم کرنی چاہئیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ کھیل دشمنی نہیں بلکہ دوستی اور احترام کا ذریعہ ہے۔
شعیب اختر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان میچ نہیں کھیلنا تو کھل کر فیصلہ کیا جائے، لیکن جب میدان میں آؤ تو کم از کم ہاتھ تو ملاؤ۔ انہوں نے کہا کہ جب کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملاتے تو دنیا کیا سوچتی ہوگی؟ بیرونی دنیا یہ تاثر لے سکتی ہے کہ یہ دو قومیں کھیل کے بنیادی آداب سے بھی ناآشنا ہیں۔ ان کے مطابق کھیل کا سب سے بڑا حسن یہی ہے کہ سخت مقابلے کے بعد بھی احترام باقی رہتا ہے۔
جب خاتون اینکر نے موقف اختیار کیا کہ ہر معاملے کا دوسرا پہلو بھی دیکھنا چاہیے تو شعیب اختر نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا کہ آپ کسی بھی مذہب یا دھرم سے ہوں، میرے لیے آپ قابل احترام ہیں، لیکن یہ سیاسی پروگرام نہیں بلکہ اسپورٹس شو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ سیاسی باتوں پر آ گئے تو بہت سی باتیں کر سکتے ہیں، مگر ان کا مقصد تنازع کھڑا کرنا نہیں بلکہ کھیل کے اصل مقصد کو اجاگر کرنا ہے۔
سابق فاسٹ باؤلر نے اس بات پر زور دیا کہ کھیل کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کھیلنے کا فیصلہ کیا جائے تو پوری پیشہ ورانہ سنجیدگی اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے ساتھ میدان میں اترا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ نہ ملانا یا رسمی آداب سے گریز کرنا درست طرزِ عمل نہیں۔ اگر کوئی ٹیم کھیلنے کے لیے تیار نہیں تو واضح طور پر انکار کر دے، لیکن میدان میں آ کر ایسے رویے اپنانا کھیل کی روح کے خلاف ہے۔
شعیب اختر نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے انڈین پریمیئر لیگ کا ایک سیزن کھیلا، اس کے بعد مزید شرکت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے پاکستانی کرکٹ کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ وہ یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ مالی مفادات یا لیگز سے بڑھ کر وقار اور اصول اہم ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کا مقصد صرف جیت یا ہار نہیں بلکہ ایک مثبت پیغام دینا بھی ہے۔ جب دنیا بھر کے ناظرین کرکٹ میچ دیکھتے ہیں تو وہ صرف اسکور نہیں دیکھتے بلکہ کھلاڑیوں کا رویہ، باہمی احترام اور پیشہ ورانہ انداز بھی نوٹ کرتے ہیں۔ اگر کھلاڑی میدان میں ایک دوسرے کو نظرانداز کریں یا بنیادی آداب ادا نہ کریں تو اس سے کھیل کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
گفتگو کے دوران شعیب اختر کا انداز اگرچہ سخت تھا، لیکن ان کے الفاظ میں یہ پیغام نمایاں تھا کہ کھیل کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ سیاسی موضوعات پر بات کرنا شروع کریں تو بہت سی باتیں سامنے آ سکتی ہیں، مگر وہ اس بحث کو اسپورٹس تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اسپورٹس شو میں کھیل ہی کی بات ہونی چاہیے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو موضوع بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھلاڑی عوام کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ جب نوجوان انہیں دیکھتے ہیں تو وہ انہی کے طرزِ عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر کھلاڑی میدان میں مثبت رویہ اپنائیں گے تو نئی نسل بھی برداشت، احترام اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو اپنائے گی۔ لیکن اگر کھیل میں تلخی اور سیاسی رنگ غالب آ جائے تو اس کا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر لائیو پروگرام میں ہونے والی اس گفتگو نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا کہ کیا کھیل کو سیاست سے مکمل طور پر الگ رکھا جا سکتا ہے؟ شعیب اختر کا موقف واضح تھا کہ کم از کم میدانِ کھیل میں تو پیشہ ورانہ اخلاقیات اور بنیادی آداب کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر مقابلہ کرنا ہے تو پورے جذبے کے ساتھ کریں، لیکن احترام اور ہاتھ ملانے جیسے معمولی مگر اہم اقدار کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنا اور صارفین کی بڑی تعداد نے اسپورٹس مین اسپرٹ کے حوالے سے مختلف آراء کا اظہار کیا۔ تاہم شعیب اختر کے بیان کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ کھیل کا مقصد نفرت نہیں بلکہ مثبت پیغام دینا ہونا چاہیے، اور جب بھی دو ٹیمیں میدان میں آئیں تو کم از کم بنیادی احترام کا مظاہرہ ضرور کریں۔
30