رپورٹ۔۔۔۔۔ فضہ حسین
جاپان میں سب سے پہلے رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا امکان، 19 فروری کو یکم رمضان متوقع
دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد میں اب چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں اور کروڑوں مسلمان اس بابرکت مہینے کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ گھروں، مساجد اور بازاروں میں ایک روحانی فضا قائم ہے جبکہ ماہرین فلکیات نے چاند کی پیدائش اور رویت کے حوالے سے اہم پیشگوئیاں جاری کر دی ہیں۔ فلکیاتی حسابات کے مطابق رمضان المبارک 1447 ہجری کا نیا چاند 17 فروری 2026 کو پیدا ہوگا، تاہم اسی روز دنیا کے کسی بھی خطے میں اس کے نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ماہرین کے مطابق چاند کی پیدائش اور اس کی رویت دو مختلف امور ہیں۔ اگرچہ نیا چاند 17 فروری کو تشکیل پا جائے گا، لیکن اس کی عمر اور غروبِ آفتاب کے وقت افق پر موجودگی اس قدر نہیں ہوگی کہ اسے آنکھ سے دیکھا جا سکے۔ اسی وجہ سے 17 فروری کو کسی بھی ملک میں چاند نظر آنے کی توقع ظاہر نہیں کی گئی۔ فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 18 فروری کو چاند کی عمر اور پوزیشن ایسی ہو جائے گی کہ کئی ممالک میں اسے بآسانی دیکھا جا سکے گا۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں بشمول کراچی، اسلام آباد اور پشاور میں 18 فروری کو چاند واضح طور پر نظر آنے کا قوی امکان ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں بھی اسی روز چاند دکھائی دینے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اگر 18 فروری کو چاند کی رویت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اکثریتی مسلم ممالک میں یکم رمضان 19 فروری 2026 بروز جمعرات ہونے کا امکان ہے۔
فلکیاتی اندازوں کے مطابق ایشیا کا ملک جاپان وہ مقام ہو سکتا ہے جہاں سب سے پہلے رمضان المبارک کا چاند نظر آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جغرافیائی محلِ وقوع اور وقت کے فرق کے باعث جاپان میں چاند کی رویت کے امکانات دیگر کئی ممالک سے پہلے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر وہاں چاند نظر آ گیا تو وہ دنیا کے اولین ممالک میں شامل ہوگا جہاں رمضان المبارک کا آغاز ہو جائے گا۔
دوسری جانب بعض ممالک نے فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر پہلے ہی رمضان المبارک کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ آسٹریلیا میں گرینڈ مفتی ڈاکٹر ابراہیم ابو محمد نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ ملک میں رمضان المبارک کا آغاز 19 فروری 2026 بروز جمعرات سے ہوگا۔ ان کے مطابق پہلی تراویح 18 فروری کو عشا کی نماز کے بعد ادا کی جائے گی۔ اسی طرح عمان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ 19 فروری کو رمضان المبارک کا پہلا روزہ ہوگا۔
ترکیے اور سنگاپور نے بھی سائنسی اور فلکیاتی بنیادوں پر 19 فروری کو یکم رمضان قرار دے دیا ہے۔ ان ممالک میں چاند کی رویت کے لیے جدید فلکیاتی حسابات کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے اور اسی بنیاد پر رمضان کے آغاز کی تاریخ کا تعین کیا جاتا ہے۔ ان اعلانات کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے مسلمان عبادات، سحری و افطار کے انتظامات اور تراویح کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔
پاکستان میں تاہم روایت کے مطابق چاند کی رویت کا حتمی فیصلہ شہادتوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ رمضان المبارک 1447 ہجری کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 18 فروری بروز بدھ پشاور میں طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا محمد عبدالخبیر آزاد کریں گے۔ اس موقع پر ملک بھر کی زونل اور ضلعی رویت ہلال کمیٹیاں بھی اپنے اپنے علاقوں میں اجلاس منعقد کریں گی اور چاند نظر آنے سے متعلق موصول ہونے والی شہادتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی گواہیوں اور محکمہ موسمیات و ماہرین فلکیات کی رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی اعلان کرے گی۔ اگر 18 فروری کی شام چاند نظر آنے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو 19 فروری کو ملک بھر میں پہلا روزہ رکھا جائے گا، بصورت دیگر رمضان المبارک کا آغاز ایک دن بعد ہوگا۔
رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس اور بابرکت مہینہ ہے جس میں روزہ، تراویح، تلاوتِ قرآن اور صدقات و خیرات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاند کی رویت کا اعلان ہر سال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے اور عوام کی نظریں متعلقہ کمیٹیوں کے فیصلوں پر مرکوز رہتی ہیں۔ اس سال بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں، اور دنیا بھر کے مسلمان بے تابی سے اس اعلان کے منتظر ہیں کہ رمضان المبارک کا آغاز کس روز ہوگا۔
فلکیاتی پیشگوئیوں اور مختلف ممالک کے اعلانات کو دیکھتے ہوئے 19 فروری کو یکم رمضان ہونے کا امکان مضبوط دکھائی دیتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ہر ملک کی متعلقہ رویت ہلال اتھارٹی کی تصدیق کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ اس طرح چند گھنٹوں میں واضح ہو جائے گا کہ دنیا بھر میں مسلمان کب سے اس مقدس مہینے کی عبادات کا باقاعدہ آغاز کریں
22