رپورٹ ۔۔۔فضہ حسین
سونے کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بڑا اضافہ، فی تولہ 7 ہزار 100 روپے مہنگا
ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور مسلسل چوتھے روز بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حالیہ اضافے نے خریداروں اور سرمایہ کاروں دونوں کو چونکا دیا ہے، کیونکہ سونا نہ صرف مقامی بلکہ عالمی منڈی میں بھی تیزی سے مہنگا ہو رہا ہے۔ قیمتی دھات کی قیمت میں اس مسلسل اضافے نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں آج 7 ہزار 100 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی نئی قیمت 5 لاکھ 33 ہزار 562 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی سونے کی قیمت تاریخی بلندیوں کے قریب تھی، اور اب مزید بڑھوتری نے خریداروں کیلئے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق صرف فی تولہ قیمت ہی نہیں بڑھی بلکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 10 گرام سونا 6 ہزار 87 روپے مہنگا ہوا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 57 ہزار 443 روپے ہو گئی ہے۔ یوں سونے کی دونوں بڑی پیمائشوں میں ایک ہی دن میں ہزاروں روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کا رجحان مضبوط ہے۔
تجارتی ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ عالمی سطح پر سونے کا بھاؤ 71 ڈالر اضافے کے بعد 5 ہزار 108 ڈالر فی اونس تک جا پہنچا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی یہ بڑھوتری براہِ راست مقامی مارکیٹ پر اثر انداز ہوتی ہے، کیونکہ پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا تعین بڑی حد تک عالمی نرخوں اور ڈالر کی قدر کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں اضافے کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات، عالمی سیاسی کشیدگیاں اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رجحان شامل ہیں۔ جب بھی عالمی معیشت میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کی خریداری میں اضافہ کر دیتے ہیں، جس سے قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔
ملک کے اندر سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے زیورات کی خریداری کو متاثر کیا ہے۔ جیولرز کے مطابق عام خریدار اب محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور صرف ضرورت کے تحت خریداری کی جا رہی ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن میں بھی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث مارکیٹ کی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت ان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کار طبقہ سونے کی بڑھتی قیمتوں کو منافع کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ کچھ افراد سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ اور منافع بخش سمجھتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیگر کاروباری شعبوں میں غیر یقینی صورتحال موجود ہو۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ قیمتوں میں تیزی کے بعد اچانک کمی کا امکان بھی موجود رہتا ہے، اس لیے سرمایہ کاری سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام نہ آیا تو مقامی سطح پر مزید اضافے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی آتی ہے یا روپے کی قدر بہتر ہوتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں کچھ حد تک کمی بھی ممکن ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز ہونے والا اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ فی تولہ 7 ہزار 100 روپے کا اضافہ اور 10 گرام کی قیمت میں 6 ہزار 87 روپے کی بڑھوتری نے سونے کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی 71 ڈالر اضافے کے بعد 5 ہزار 108 ڈالر فی اونس کی سطح اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں قیمتوں کی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات اور مقامی کرنسی کی صورتحال پر
3