اداکارہ مریم نفیس کا بڑا بیان: بیٹے عیسیٰ کو شادی کے بعد الگ رکھوں گی ساس بہو کے تعلقات پر مریم نفیس کی کھل کر گفتگو

42

پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ، میزبان اور ڈیجیٹل انفلوئنسر مریم نفیس نے شادی کے بعد بچوں کے الگ رہنے اور ساس بہو کے تعلقات سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بیٹے عیسیٰ کو شادی کے بعد الگ رکھیں گی کیونکہ بہو کی ذمہ داری نہیں ہوتی کہ وہ سسرال والوں کی خدمت کرے۔

حال ہی میں مریم نفیس نجی ٹی وی کے مشہور مارننگ شو “گڈ مارننگ پاکستان” میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے خاندانی نظام، شادی کے بعد پرائیویسی، ساس بہو کے مسائل اور معاشرتی رویوں پر تفصیل سے بات کی۔ اداکارہ کے خیالات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں اور صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

مریم نفیس کون ہیں؟

مریم نفیس پاکستان کی ان اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے کم وقت میں اپنی منفرد اداکاری اور بے باک شخصیت کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ انہوں نے 2015 میں ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھا اور مختلف کامیاب ڈراموں میں اداکاری کے ذریعے ناظرین کے دل جیتے۔

وہ نہ صرف اداکاری بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کافی متحرک رہتی ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے جہاں وہ اپنی نجی زندگی، فیملی لمحات اور مختلف سماجی موضوعات پر اپنے خیالات شیئر کرتی رہتی ہیں۔

مریم نفیس کی شادی فلم میکر اور ڈائریکٹر امان احمد سے ہوئی اور دونوں کا ایک بیٹا “عیسیٰ” ہے جو تقریباً ایک سال کا ہونے والا ہے۔

شادی کے بعد بچوں کو الگ رہنا چاہیے

شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مریم نفیس نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر شادی کے بعد لڑکیوں پر سسرال کی مکمل ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے، حالانکہ ایسا ہونا ضروری نہیں۔

اداکارہ نے کہا:

“میں نے ابھی سے اپنا ذہن بنانا شروع کردیا ہے کہ عیسیٰ اپنی شادی کے بعد الگ رہے گا کیونکہ یہ اس کی بیوی کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ہمارا خیال رکھے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام بھی شادی کے بعد میاں بیوی کو اپنی الگ اور نجی زندگی گزارنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ وہ سکون اور آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔

پرائیویسی ہر شادی شدہ جوڑے کا حق ہے

مریم نفیس کے مطابق شادی کے بعد سب سے اہم چیز میاں بیوی کی پرائیویسی ہوتی ہے۔ اگر والدین ہر معاملے میں مداخلت کریں تو اس سے گھریلو تنازعات پیدا ہونے لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر مالی مسائل کی وجہ سے الگ گھر لینا ممکن نہ ہو تو کم از کم گھر کے اندر اتنی آزادی ضرور ہونی چاہیے کہ نیا شادی شدہ جوڑا اپنی زندگی سکون سے گزار سکے۔

اداکارہ نے کہا:

“اگر آپ الگ گھر کا انتظام نہیں کر سکتے تو کم از کم انہیں گھر میں اتنی جگہ اور آزادی دیں کہ وہ ذہنی سکون کے ساتھ رہ سکیں۔”

ساس بہو کے مسائل کیوں پیدا ہوتے ہیں؟

گفتگو کے دوران مریم نفیس نے ساس بہو کے جھگڑوں کی وجوہات پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق اکثر بڑی عمر کی خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ ان کا ہر فیصلہ درست ہے جبکہ نئی آنے والی بہو کچھ بھی صحیح نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ یہی سوچ گھریلو مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اگر گھر کے بڑے تھوڑی برداشت، سمجھداری اور محبت کا مظاہرہ کریں تو بہت سے تنازعات خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔

اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی ملنی چاہیے تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنی ازدواجی زندگی گزار سکیں۔

سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل

مریم نفیس کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی۔ کچھ صارفین نے ان کے خیالات کو جدید اور حقیقت پسندانہ قرار دیا جبکہ کچھ افراد نے کہا کہ اس طرح کے خیالات مشترکہ خاندانی نظام کو کمزور کرتے ہیں۔

بہت سے صارفین کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد پرائیویسی ہر جوڑے کا حق ہے اور سسرال والوں کو نئی زندگی شروع کرنے والے جوڑے کو ذہنی سکون دینا چاہیے۔

دوسری جانب بعض افراد نے کہا کہ مشرقی معاشرے میں والدین کے ساتھ رہنا روایت کا حصہ ہے اور بچوں کو والدین سے الگ کرنا مناسب نہیں۔

پہلے بھی خبروں میں رہ چکی ہیں

یہ پہلا موقع نہیں جب مریم نفیس کے بیانات سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف سماجی موضوعات پر اپنی رائے کھل کر بیان کرچکی ہیں۔

حال ہی میں ان کا ایک بیان کافی مقبول ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “دو بچے کافی ہیں کیونکہ شوہر بھی ایک بچے کی طرح ہوتا ہے جس کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔”

ان کے اس بیان پر بھی سوشل میڈیا پر کافی بحث ہوئی تھی۔

معاشرے میں بدلتی سوچ

ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی معاشروں میں اب خاندانی نظام اور شادی کے بعد رہائش کے حوالے سے سوچ تبدیل ہورہی ہے۔ نئی نسل اپنی نجی زندگی، آزادی اور ذہنی سکون کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔

اسی وجہ سے بہت سے نوجوان شادی کے بعد الگ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی ازدواجی زندگی بہتر انداز میں گزار سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں