ڈھاکا: بابر اعظم مکمل فٹ، دوسرے ٹیسٹ میں شرکت یقینی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار بیٹر بابر اعظم بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے مکمل فٹ ہو چکے ہیں اور ان کی ٹیم میں واپسی یقینی سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ بابر اعظم کی شمولیت کے بعد قومی ٹیم سے کس کھلاڑی کو باہر بیٹھنا پڑے گا؟
بابر اعظم پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل انجری کا شکار ہو گئے تھے جس کے باعث وہ ڈھاکا ٹیسٹ میں شرکت نہیں کر سکے تھے۔ اب رپورٹس کے مطابق وہ بھرپور پریکٹس کر رہے ہیں اور ٹیم مینجمنٹ نے بھی ان کی فٹنس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں نے مشکل فیصلہ کھڑا کر دیا
بابر اعظم کی عدم موجودگی میں ٹیم مینجمنٹ نے نوجوان بیٹرز اذان اویس اور عبداللہ فضل کو ڈیبیو کا موقع دیا، اور دونوں کھلاڑیوں نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
اذان اویس نے اپنے ڈیبیو میچ میں شاندار سنچری بنا کر سب کو متاثر کیا جبکہ عبداللہ فضل نے مشکل کنڈیشنز میں دونوں اننگز میں نصف سنچریاں اسکور کر کے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔
عبداللہ فضل اس کارنامے کے ساتھ وہ چھٹے پاکستانی کھلاڑی بھی بن گئے جنہوں نے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں ففٹیز اسکور کیں۔
ان دونوں نوجوان کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کے بعد ٹیم مینجمنٹ کے لیے پلیئنگ الیون کا انتخاب مزید مشکل ہو گیا ہے۔
کیا اذان اویس یا عبداللہ فضل کو ڈراپ کیا جائے گا؟
شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں یہی سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا بابر اعظم کی واپسی کے لیے ان نوجوان کھلاڑیوں میں سے کسی ایک کو باہر بٹھایا جائے گا؟
کرکٹ ماہرین کے مطابق ایسا کرنا شاید مناسب فیصلہ نہ ہو کیونکہ دونوں کھلاڑیوں نے دباؤ میں بہترین کھیل پیش کیا اور ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالا۔
خاص طور پر اذان اویس کی سنچری اور عبداللہ فضل کی مستقل مزاجی نے انہیں دوسرے ٹیسٹ کے لیے بھی مضبوط امیدوار بنا دیا ہے۔
شان مسعود کو باہر بٹھانے کا امکان نہیں
ٹیم کپتان شان مسعود کی خراب فارم پر تنقید ضرور کی جا رہی ہے، لیکن ان کے ٹیم سے باہر ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ قومی ٹیم کے کپتان ہیں۔
اسی طرح نائب کپتان سعود شکیل اور آل راؤنڈر سلمان علی آغا بھی ٹیم مینجمنٹ کے اہم پلان کا حصہ ہیں، اس لیے ان کو ڈراپ کیے جانے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
امام الحق پر سوالات اٹھنے لگے
اب نظر جاتی ہے اوپنر امام الحق پر، جن کی پرفارمنس اور رویے دونوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ڈھاکا ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں امام الحق نے پہلی گیند خود کھیلنے کے بجائے ڈیبیو کرنے والے اذان اویس کو اسٹرائیک دی، جس پر سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں بحث جاری ہے۔
پرفارمنس کے لحاظ سے بھی امام پہلی اننگ میں 45 رنز بنانے کے بعد دوسری اننگ میں صرف 2 رنز بنا سکے۔
ایسے میں زیادہ امکانات یہی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ بابر اعظم کی ٹیم میں واپسی کے لیے امام الحق کو قربانی دینا پڑ سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے دوسرا ٹیسٹ انتہائی اہم
واضح رہے کہ بنگلہ دیش قومی کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کر کے دو میچوں کی سیریز میں 0-1 کی ناقابل شکست برتری حاصل کر رکھی ہے۔
اب سیریز کا آخری اور فیصلہ کن ٹیسٹ 16 مئی سے سلہٹ میں کھیلا جائے گا جہاں پاکستان قومی کرکٹ ٹیم سیریز برابر کرنے کے لیے میدان میں اترے گی۔
بابر اعظم کی واپسی یقیناً پاکستان کے بیٹنگ لائن اپ کو مضبوط کرے گی، لیکن اصل سوال یہی ہے کہ ٹیم مینجمنٹ کس کھلاڑی کو باہر بٹھا کر اپنے اسٹار بیٹر کو پلیئنگ الیون میں جگہ دے گی۔