کراچی (13 مئی 2026): بنگلہ دیش کے ہاتھوں ڈھاکا ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ سینئر اسپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نے قومی کرکٹ کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ اپنے نچلے ترین درجے پر پہنچ چکی ہے اور تقریباً ختم ہو گئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام “الیونتھ آور” میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ٹیم سلیکشن، کپتانی، گیم پلاننگ اور ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی حکمت عملی پر سخت سوالات اٹھائے۔
“ایمانداری سے ٹیم سلیکشن نہیں ہوئی”
ڈاکٹر نعمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے ٹیم کا انتخاب میرٹ پر نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا:
“ٹی 20 میں چار اوور کرانے والا شاہین شاہ موجود ہے، لیکن خرم شہزاد، محمد علی اور موسیٰ خان جیسے حقیقی ٹیسٹ بولرز ٹیم میں شامل نہیں۔”
ان کے مطابق پاکستان کرکٹ میں اس وقت کوئی واضح ترجیحات موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ٹیسٹ کرکٹ کیلئے مناسب منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
ٹاس جیتنے کے باوجود غلط فیصلے
ڈاکٹر نعمان نے میچ میں کپتانی اور حکمت عملی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ٹاس جیتنے کے باوجود گھاس والی پچ دیکھ کر خوفزدہ ہو کر بنگلہ دیش کو بیٹنگ دے دی، جو ایک غلط فیصلہ ثابت ہوا۔
ان کے مطابق:
“ہمارے پاس کوئی گیم پلاننگ نہیں تھی۔”
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بنگلہ دیشی ٹیم میں بائیں ہاتھ کے بیٹرز موجود تھے تو پھر اسپنر ساجد خان کو کیوں نہیں کھلایا گیا۔
نعمان علی کو دیر سے بولنگ دینا بھی غلطی قرار
تجزیہ کار نے اسپنر نعمان علی کے استعمال پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ نعمان علی دوسری اننگز میں زیادہ مؤثر بولر ثابت ہوتے ہیں لیکن انہیں 38 اوورز گزرنے کے بعد بولنگ کیلئے لایا گیا، جو ٹیم مینجمنٹ کی ناقص حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔
“پاکستان اب صرف 50 اوورز کی ٹیم رہ گئی”
ڈاکٹر نعمان نے کہا کہ اس ٹیسٹ میچ سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان ٹیم اب صرف محدود اوورز کی کرکٹ کھیلنے والی ٹیم بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا:
“ٹیسٹ میچ کھیلنا اب ان کے بس کی بات نہیں رہی۔”
ان کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی کیلئے حقیقی اور مسلسل لائن و لینتھ رکھنے والے فاسٹ بولرز کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ پاکستان کے پاس اس وقت ایسے بولرز کی کمی ہے۔
بابر اعظم کی واپسی پر بھی رائے
سینئر تجزیہ کار نے دوسرے ٹیسٹ میچ کیلئے ممکنہ تبدیلیوں پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر بابر اعظم فٹ ہوکر ٹیم میں واپس آتے ہیں تو انہیں عبداللہ فضل کی جگہ ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر نعمان کے مطابق بابر اعظم ٹیم کے پریمیئم بیٹر ہیں اور ان کی موجودگی بیٹنگ لائن کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
بنگلہ دیش کے خلاف شکست پر شائقین مایوس
پاکستان کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شائقینِ کرکٹ شدید مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
کئی سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں نے ٹیم سلیکشن، ڈومیسٹک اسٹرکچر اور بورڈ پالیسیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو فوری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ میں مضبوط مقام حاصل کرسکے۔
پاکستان کرکٹ کو کن مسائل کا سامنا؟
ماہرین کے مطابق قومی کرکٹ اس وقت کئی مسائل سے دوچار ہے، جن میں:
غیر مستقل ٹیم سلیکشن
ڈومیسٹک کرکٹ کا کمزور نظام
نوجوان کھلاڑیوں کی ناقص تربیت
ٹیسٹ کرکٹ پر کم توجہ
فاسٹ بولنگ کے شعبے میں عدم تسلسل
شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں پاکستان ٹیم کو مزید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
دوسرے ٹیسٹ پر نظریں
شائقین اب بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ ٹیم مینجمنٹ شکست کے بعد کیا تبدیلیاں کرتی ہے اور آیا پاکستان کم بیک کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔