Pakistan کی حکومت نے بجلی تقسیم کرنے والی تین بڑی کمپنیوں کی نجکاری کا عمل شروع کرتے ہوئے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی کی درخواستیں طلب کرلی ہیں۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق Faisalabad Electric Supply Company، Gujranwala Electric Power Company اور Islamabad Electric Supply Company میں 51 فیصد سے 100 فیصد تک حصص فروخت کیے جائیں گے۔
نجی سرمایہ کاروں کو انتظامی کنٹرول بھی ملے گا
دستاویزات کے مطابق نجکاری کے عمل میں کامیاب ہونے والے سرمایہ کاروں کو ان کمپنیوں کا انتظامی کنٹرول بھی منتقل کردیا جائے گا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد بجلی کے شعبے میں اصلاحات لانا، نقصانات کم کرنا اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
درخواستیں جمع کرانے کی تاریخیں جاری
حکومتی اعلان کے مطابق:
فیسکو کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 جولائی 2026 مقرر کی گئی ہے۔
گیپکو کے لیے آخری تاریخ 6 اگست 2026 رکھی گئی ہے۔
آئیسکو کے لیے درخواستیں 7 ستمبر 2026 تک جمع کرائی جاسکیں گی۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ہر کمپنی کے لیے درخواست کے ساتھ 14 لاکھ روپے کی ناقابلِ واپسی فیس جمع کرانا لازمی ہوگا۔
سرمایہ کاروں کے لیے آن لائن بریفنگ
نجکاری کے اس عمل کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک آن لائن بریفنگ سیشن بھی منعقد کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق یہ سیشن 3 جون 2026 کو زوم پر ہوگا جس میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کو نجکاری کے عمل، شرائط اور کمپنیوں کی مالی صورتحال سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
لاکھوں صارفین کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق:
فیسکو وسطی پنجاب میں تقریباً 57 لاکھ صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہے۔
گیپکو گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور دیگر علاقوں میں 51 لاکھ صارفین کو خدمات فراہم کررہی ہے۔
آئیسکو اسلام آباد، راولپنڈی اور آزاد کشمیر کے 41 لاکھ صارفین کو بجلی مہیا کرتی ہے۔
ان کمپنیوں کا بڑا صارفی نیٹ ورک نجکاری کے عمل کو سرمایہ کاروں کے لیے مزید اہم بنارہا ہے۔
نجکاری کی وجہ کیا ہے؟
حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں مسلسل مالی نقصانات اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہیں۔
حکام کے مطابق نجی سرمایہ کاری آنے سے بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری، نقصانات میں کمی اور قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے بڑے صارفین اور وسیع نیٹ ورک کے باعث علاقائی اور عالمی سرمایہ کار اس نجکاری میں گہری دلچسپی لے سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر نجکاری شفاف انداز میں مکمل ہوئی تو اس سے توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی نظام متعارف کرانے میں مدد مل سکتی ہے۔