ایران جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندیاں؟
واشنگٹن (25 مئی 2026) — امریکی صدر Donald Trump نے مسلم ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی بحران کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہم معاہدوں میں شامل ہوں۔ اس پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف خطے میں امن کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فلسطین کے مسئلے پر شدید اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز عرب اور دیگر مسلم ممالک کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم کانفرنس کال کی، جس میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے، جنگ بندی اور خطے میں مستقبل کی سفارتی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کال میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن اور بحرین کے رہنما شریک تھے۔
ٹرمپ کا بڑا منصوبہ، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے رہنماؤں کو بتایا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم ہونے کے بعد اب اگلا مرحلہ عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو مکمل طور پر بحال کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ تمام ممالک جو ابھی تک ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہوئے، مستقبل میں اسرائیل کو تسلیم کریں اور سفارتی تعلقات قائم کریں۔
ابراہم معاہدے دراصل وہ تاریخی معاہدے ہیں جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور بعض دیگر عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔ ان معاہدوں کو ٹرمپ انتظامیہ کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی اصل توجہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ کروانے پر مرکوز ہے، کیونکہ اگر سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے تو یہ پورے خطے میں ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی تبدیلی تصور کی جائے گی۔
پاکستان، قطر اور سعودی عرب حیران رہ گئے
امریکی حکام کے مطابق جب ٹرمپ نے کانفرنس کال کے دوران پاکستان، قطر اور سعودی عرب سمیت دیگر مسلم ممالک سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی بات کی تو کچھ لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صورتحال اس قدر غیر متوقع تھی کہ صدر ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں پوچھا کہ “کیا آپ سب اب بھی لائن پر موجود ہیں؟”
ذرائع کا کہنا ہے کہ خاص طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے نمائندے اس تجویز پر حیران دکھائی دیے کیونکہ دونوں ممالک اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کو اہم ذمہ داری
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے رہنماؤں کو بتایا کہ ان کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر اور امریکی سفارتی نمائندے اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتوں میں اس معاملے پر مختلف ممالک سے مزید رابطے کریں گے۔
یاد رہے کہ جیرڈ کشنر نے اپنے سابق دورِ حکومت میں بھی ابراہم معاہدوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب ایک بار پھر ٹرمپ انتظامیہ انہی سفارتی روابط کو استعمال کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندیاں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سعودی عرب کی شرط کیا ہے؟
سعودی عرب اب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے ایک بنیادی شرط پر قائم ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو پہلے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح روڈ میپ دینا ہوگا۔ اس میں یہ طے کرنا بھی شامل ہے کہ فلسطینی ریاست کب اور کیسے قائم ہوگی۔
تاہم موجودہ اسرائیلی حکومت اس شرط کو قبول کرنے پر تیار دکھائی نہیں دیتی۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے پر سخت مؤقف رکھتی ہے، جس کے باعث سعودی اسرائیل معاہدہ تاحال تعطل کا شکار ہے۔
ایران بھی ابراہم معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے؟
صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ حیران کن خیال بھی پیش کیا کہ مستقبل میں ایران بھی ابراہم معاہدوں کا حصہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ تہران اسرائیل کو تسلیم کرے۔ تاہم موجودہ ایرانی حکومت اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتی ہے اور کئی دہائیوں سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی آئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید دشمنی کے باعث اس طرح کا امکان فی الحال انتہائی کم دکھائی دیتا ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ خطے میں ایک نئی سفارتی حکمت عملی کے تحت ہر ممکن راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نئی تبدیلیوں کا امکان
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کشیدگی کم ہو جاتی ہے اور سعودی عرب سمیت بڑے مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی طرف بڑھتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا سب سے بڑا سفارتی انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم فلسطین کا مسئلہ اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ عرب عوام کی اکثریت فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نظر نہیں آتی۔
دوسری جانب امریکہ خطے میں اپنی سفارتی کامیابیوں کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے تاکہ ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے اور عرب ممالک کو ایک نئے اتحاد میں شامل کیا جا سکے۔