27

سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کا اقوام متحدہ سے رجوع، بھارت کے آبی منصوبوں پر شدید تحفظات

نیویارک:

پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ مسلسل خلاف ورزیوں اور چناب دریا پر بھارت کے نئے آبی منصوبوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے باضابطہ رجوع کر لیا ہے۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت کے اقدامات نہ صرف دوطرفہ معاہدوں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں، جن سے خطے کے امن اور پاکستان کی آبی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کو خصوصی خط

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ایک خصوصی خط سلامتی کونسل کی صدر کے حوالے کیا۔ اس خط میں پاکستان نے چناب دریا کے نظام پر بھارت کے دو حالیہ آبی منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق یہ منصوبے سندھ طاس معاہدے کی روح اور طے شدہ قوانین کے منافی ہیں اور ان کے ذریعے پانی کے قدرتی بہاؤ پر اثر انداز ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

بھارت پر سنگین الزامات

پاکستان نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو تبدیل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جو بین الاقوامی اصولوں اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پانی لاکھوں انسانوں کی زندگی، زراعت اور معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اس لیے اس کا سیاسی یا سفارتی دباؤ کے لیے استعمال ناقابل قبول ہے۔

پاکستان کو درپیش خدشات

پاکستان نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ بھارتی اقدامات کے باعث ملک کی آبی، غذائی اور معاشی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے اور دریائے چناب سمیت سندھ طاس کے دیگر دریاؤں کا پانی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے۔

اگر پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی غیر متوقع تبدیلی آتی ہے تو اس کے اثرات زرعی پیداوار، خوراک کی دستیابی، صنعت اور توانائی کے شعبوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا طریقہ کار وضع کیا گیا۔ اس معاہدے کو عالمی سطح پر ایک کامیاب آبی معاہدہ تصور کیا جاتا ہے اور عالمی بینک اس کا ضامن بھی ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کے حالیہ اقدامات معاہدے کی شرائط اور اعتماد کے ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جس سے مستقبل میں خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ سے مطالبہ

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جوابدہ بنائے۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پانی جیسے اہم قدرتی وسائل کو سیاسی تنازعات کا حصہ نہ بنایا جائے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان نے اپنے خط میں اس امر پر بھی زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کریں اور تنازعات کو مذاکرات اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کریں۔

خطے کے امن پر اثرات

ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں پانی مستقبل کے اہم ترین مسائل میں شامل ہے اور پاکستان و بھارت جیسے ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان آبی تنازعات خطے کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین کی پابندی اور باہمی مذاکرات ہی دیرپا حل ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھنا اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

نتیجہ

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرے گا۔ اقوام متحدہ سے رجوع کرنا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جبکہ پاکستان عالمی برادری سے توقع رکھتا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری اور خطے میں آبی استحکام کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں