31

ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، “میرے اختیارات کی کوئی حد نہیں”، ایران معاہدے کو تاریخی کامیابی قرار دے دیا

واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خصوصی انٹرویو میں اپنی صدارتی طاقت اور ایران کے ساتھ حالیہ معاہدے پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اختیارات کی کوئی حد نہیں ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو امریکی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی معیشت کو بھی ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے گا۔

ٹرمپ کاغیرمعمولی بیان

امریکی نیوز ویب سائٹ “ایگزیوس” کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ لامحدود اختیارات کے حامل ہیں اور ان کی طاقت کی کوئی مقررہ حد نہیں۔

ان کے اس بیان نے امریکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں صدارتی اختیارات اور آئینی حدود پر مختلف آراء سامنے آ سکتی ہیں۔

ایران معاہدہ بڑی سفارتی کامیابی قرار

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے کو اپنی خارجہ پالیسی کی اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ تہران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق اس پیش رفت سے نہ صرف خطے میں امن و استحکام کی راہ ہموار ہوگی بلکہ عالمی سطح پر اقتصادی بے یقینی میں بھی کمی آئے گی۔

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا اعلان

امریکی صدر کے مطابق معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھول دیا گیا ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو استحکام حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کو کسی بڑے بحران سے بچانے کے لیے یہ اقدام انتہائی اہم تھا اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقین نے مثبت کردار ادا کیا۔

جوہری مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ معاہدے کے تحت ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے 60 روز کی مدت مقرر کی گئی ہے، جس کے دوران مختلف تکنیکی اور سفارتی معاملات پر پیش رفت کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں دونوں فریق اہم مسائل پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ ایک جامع اور پائیدار معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

کئی اہم معاملات ابھی باقی

صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ حالیہ معاہدے کے باوجود کئی حساس اور اہم معاملات ابھی حل طلب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مذاکرات کے مختلف ادوار میں ان معاملات پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان باقی اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

عالمی سیاست پر ممکنہ اثرات

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی بڑی سفارتی پیش رفت کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی منڈیوں میں استحکام آنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

نتیجہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ حالیہ معاہدے کو اپنی حکومت کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے عالمی امن اور اقتصادی استحکام کے لیے اہم پیش رفت بتایا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ کئی اہم معاملات پر ابھی مزید مذاکرات ہونا باقی ہیں اور مستقبل میں ہونے والی بات چیت دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت کا تعین کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں