23

امریکا، ایران مذاکرات مؤخر، امریکی نائب صدر کا سوئٹزر لینڈ کا دورہ منسوخ

برگن:

امریکا اور ایران کے درمیان آج سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات مؤخر کر دیے گئے ہیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی کوششوں پر عارضی طور پر بریک لگا دی ہے، تاہم فریقین کی جانب سے مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکی نائب صدر کا دورہ منسوخ

رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آج سوئٹزر لینڈ روانگی متوقع تھی، جہاں انہیں ایران کے ساتھ ابتدائی مذاکراتی عمل کا حصہ بننا تھا۔ تاہم انتظامی اور لاجسٹک معاملات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان کا دورہ منسوخ کر دیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نائب صدر فی الحال آج رات سوئٹزر لینڈ روانہ نہیں ہو رہے، تاہم امریکا تکنیکی مذاکرات کے جلد آغاز کا منتظر ہے۔

مذاکرات کیوں مؤخر ہوئے؟

ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات حال ہی میں طے پانے والی ایک مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے تھے، لیکن دونوں ممالک کے وفود کے درمیان انتظامی اور تکنیکی معاملات ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے۔

اسی وجہ سے سوئس شہر برگن اسٹاک میں آج ہونے والی ملاقات کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

سوئس وزارت خارجہ کی تصدیق

سوئٹزر لینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آج برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

سوئس حکام کے مطابق جمعہ کو طے شدہ شیڈول کے تحت یہ ملاقات ممکن نہیں رہی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے لیے نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

امریکا اور ایران کے تعلقات

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی اور سفارتی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مختلف معاملات پر پیش رفت کے لیے سفارتی رابطوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کا مؤخر ہونا کسی بڑے اختلاف کی علامت نہیں بلکہ انتظامی اور تکنیکی وجوہات کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جبکہ دونوں فریق مستقبل میں مذاکرات جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

خطے پر ممکنہ اثرات

امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی سفارتی پیش رفت مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات میں استحکام کے لیے ان مذاکرات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور سفارتی تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

اگرچہ امریکی نائب صدر کا سوئٹزر لینڈ کا دورہ منسوخ ہونے اور آج کے مذاکرات مؤخر ہونے سے سفارتی عمل میں عارضی تاخیر ہوئی ہے، تاہم امریکا، ایران اور سوئس حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل ختم نہیں ہوا بلکہ مناسب انتظامات کے بعد اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ نئی تاریخوں کا اعلان آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں