26

آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ، ایران اور عمان کے مؤقف میں اختلاف، عالمی تجارت پر نئی تشویش

ایران نے آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق سخت مؤقف اختیار کر لیا، عمان کی دو بحری راہداریوں کی تجویز پر فوری اتفاق نہ ہو سکا، جبکہ امریکی سینٹکام نے کہا کہ عالمی بحری گزرگاہ بدستور کھلی ہے۔

آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز

دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس اسٹریٹجک آبی راستے کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ عالمی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے اور کسی بھی ممکنہ تبدیلی کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کا سخت مؤقف

ایک اہم ایرانی عہدیدار نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ عمان تعاون کرے یا نہ کرے، آبنائے ہرمز کی صورتحال اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ آبی گزرگاہ ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، جس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

عمان کی نئی تجویز

رپورٹس کے مطابق عمان نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو مزید منظم بنانے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت آبی گزرگاہ کو دو الگ بحری راہداریوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت زیادہ محفوظ اور منظم انداز میں جاری رہ سکے۔

دو بحری راہداریوں کا مجوزہ نظام

مجوزہ منصوبے کے مطابق جنوبی بحری راہداری، جو عمان کی جانب واقع ہے، تمام بین الاقوامی جہازوں کے لیے آزادانہ استعمال کے لیے کھلی رہے گی۔ دوسری جانب شمالی راہداری، جو ایران کے قریب واقع ہے، استعمال کرنے والے جہازوں کو ایران سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔ مجوزہ منصوبے میں کسی قسم کا ٹول یا اضافی فیس عائد کرنے کی تجویز شامل نہیں ہے۔

ایران نے فوری منظوری نہیں دی

رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے عمان کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو فوری طور پر قبول نہیں کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس حساس معاملے پر مزید سفارتی مذاکرات کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاکہ کسی متفقہ حل تک پہنچا جا سکے۔

محسن رضائی کا بیان

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے اہم ترین دفاعی اثاثوں میں شامل ہے۔ ان کے مطابق ایران اس اسٹریٹجک گزرگاہ کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائے گا اور ملکی سلامتی سے متعلق کسی بھی معاملے پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

امریکی سینٹکام کا مؤقف

دوسری جانب امریکی سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی قوانین کے مطابق عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے۔ سینٹکام کے مطابق ایران اس آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا اور اس وقت بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔

عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا پابندی عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ چونکہ دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے مختلف ممالک تک پہنچتی ہے، اس لیے عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

نتیجہ

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران، عمان اور امریکہ کے مختلف مؤقف اس حساس خطے کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ اگرچہ اس وقت عالمی جہاز رانی جاری ہے، تاہم سفارتی اختلافات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی مستقبل میں اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں