ریاض: سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو نے ایشیائی خریداروں کے لیے عرب لائٹ خام تیل کی قیمت میں توقعات سے زیادہ کمی کا اعلان کر دیا، جبکہ عالمی منڈی میں بھی خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کا رجحان برقرار ہے۔
آرامکو کا ایشیائی مارکیٹ کے لیے بڑا اعلان
سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو نے ایشیائی مارکیٹ کے لیے اپنے عرب لائٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ ماہ سے ہوگا، جس کا مقصد خطے میں مسابقت کو برقرار رکھنا اور عالمی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے مطابق قیمتوں کو متوازن بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایشیائی درآمد کنندگان کے لیے بڑی خبر ہے، کیونکہ اس سے خام تیل کی خریداری کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔
11 ڈالر فی بیرل تک قیمت کم
نئے فیصلے کے تحت آرامکو نے ایشیا کے لیے عرب لائٹ خام تیل کی قیمت میں 11 ڈالر فی بیرل کمی کر دی ہے۔ اس کٹوتی کے بعد سعودی خام تیل علاقائی معیار (Benchmark) کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل رعایت پر دستیاب ہوگا۔
یہ کمی مارکیٹ کی توقعات سے کہیں زیادہ قرار دی جا رہی ہے اور اسے عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کی پیش گوئی سے زیادہ کمی
بلومبرگ کے سروے میں اس سے قبل خام تیل کی قیمت میں تقریباً 8 ڈالر فی بیرل کمی کی پیش گوئی کی گئی تھی، تاہم سعودی آرامکو نے توقعات سے بڑھ کر 11 ڈالر فی بیرل کمی کر کے مارکیٹ کو حیران کر دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایشیائی ممالک میں سعودی خام تیل کی طلب میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی
کاروباری ہفتے کے آغاز پر عالمی منڈی میں بھی خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کے سودے 0.60 ڈالر کمی کے بعد 68.09 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔
اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 0.71 ڈالر کم ہو کر 71.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ مختلف بینچ مارکس کے تحت برینٹ خام تیل کے سودے 71.49 ڈالر سے 72.45 ڈالر فی بیرل کے درمیان طے پائے۔
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان
خام تیل کے ساتھ ساتھ قیمتی دھاتوں کی عالمی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سونے کی قیمت 22.37 ڈالر کمی کے بعد 4,154.57 ڈالر فی اونس ہو گئی، جبکہ چاندی کی قیمت 1.48 ڈالر اضافے کے ساتھ 62.54 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی حکمت عملی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ایشیائی ممالک پر ممکنہ اثرات
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایشیائی درآمد کنندگان، خصوصاً توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس فیصلے سے ریفائنریوں کی لاگت کم ہونے اور ایندھن کی سپلائی میں استحکام آنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اسی طرح کم رہیں تو کئی ممالک کو درآمدی بل میں کمی اور توانائی کے شعبے میں مالی ریلیف مل سکتا ہے۔
عالمی توانائی مارکیٹ پر نظر
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں عالمی طلب، پیداوار، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور معاشی اشاریے خام تیل کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سعودی عرب کا حالیہ فیصلہ عالمی آئل مارکیٹ کے رجحانات پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے، جس پر سرمایہ کار اور توانائی سے وابستہ ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔