39

ٹرمپ کی زبان پھر پھسل گئی، ایران کی جگہ جاپان کو ‘اسلامی جمہوریہ’ قرار دے دیا

انقرہ (9 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اپنے بیان کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئے۔ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی زبان پھسل گئی اور انہوں نے ایران کی بجائے جاپان کو “اسلامی جمہوریہ جاپان” قرار دے دیا۔ اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جہاں صارفین نے نہ صرف اس غلطی کی نشاندہی کی بلکہ دلچسپ اور طنزیہ تبصروں کی بھرمار بھی دیکھنے میں آئی۔

نیٹو اجلاس میں غیر متوقع بیان

نیٹو سربراہی اجلاس میں عالمی رہنما خطے کی سیکیورٹی، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور بین الاقوامی تعاون جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “اسلامی جمہوریہ جاپان” نے امریکی بحری بیڑے “یو ایس ایس ابراہم لنکن” پر 111 میزائل داغے، تاہم امریکی دفاعی نظام نے تمام میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے۔

ٹرمپ کے اس جملے نے اجلاس میں موجود افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی، جبکہ چند ہی لمحوں بعد ان کی ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے لگی۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

جیسے ہی ویڈیو سامنے آئی، صارفین نے فوراً نشاندہی کی کہ امریکی صدر نے ایران اور جاپان کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا ہے۔ متعدد صارفین نے اس بیان کو “زبان پھسلنے” کا نتیجہ قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے امریکی صدر کی ایک اور بڑی لفظی غلطی قرار دیا۔

کئی صارفین نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ دنیا کا نقشہ شاید اب تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ کچھ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جاپان کو بھی شاید آج پہلی بار معلوم ہوا ہوگا کہ وہ “اسلامی جمہوریہ” ہے۔

دلچسپ تبصروں کی بھرمار

سوشل میڈیا پر مختلف زبانوں میں ہزاروں تبصرے سامنے آئے۔ کچھ صارفین نے میمز شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر جاپان اسلامی جمہوریہ بن گیا ہے تو دنیا کی جغرافیائی کتابیں بھی دوبارہ چھاپنا پڑیں گی۔

دیگر صارفین نے لکھا کہ عالمی رہنماؤں کے بیانات انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے اس قسم کی غلطیاں غیر ضروری بحث کو جنم دے سکتی ہیں۔ کئی سیاسی مبصرین نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ایسے بیانات فوری توجہ حاصل کرتے ہیں۔

ٹرمپ کی ماضی کی زبان پھسلنے کی مثالیں

یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی عوامی تقریب یا عالمی اجلاس میں زبان پھسلنے کی وجہ سے خبروں کا حصہ بنے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف ممالک، شخصیات اور اہم عالمی معاملات سے متعلق بیانات میں الفاظ کی ادائیگی یا ناموں کے حوالے سے غلطیاں کر چکے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات بعض اوقات غیر ارادی ہوتے ہیں، تاہم عالمی میڈیا انہیں فوری طور پر نمایاں کر دیتا ہے کیونکہ امریکی صدر کے ہر لفظ کو بین الاقوامی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

عالمی میڈیا کی توجہ

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس ویڈیو پر بحث شروع ہو گئی۔ کئی تجزیہ نگاروں نے کہا کہ ایسے واقعات سفارتی سطح پر تو کوئی بڑا بحران پیدا نہیں کرتے، لیکن عوامی سطح پر ضرور دلچسپ بحث کا باعث بنتے ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق جدید دور میں سوشل میڈیا کی موجودگی کے باعث کسی بھی رہنما کی معمولی لغزش بھی چند منٹوں میں دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے، جس کے بعد اس پر مختلف آراء اور تبصرے سامنے آتے ہیں۔

بیان کیوں زیرِ بحث آیا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور جاپان دو بالکل مختلف ممالک ہیں۔ ایران ایک اسلامی جمہوریہ ہے، جبکہ جاپان ایک آئینی بادشاہت اور ترقی یافتہ ایشیائی ملک ہے۔ اسی لیے جب امریکی صدر نے “اسلامی جمہوریہ جاپان” کا جملہ استعمال کیا تو یہ فوراً توجہ کا مرکز بن گیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عالمی رہنماؤں کے لیے درست الفاظ اور درست حوالوں کا استعمال نہایت اہم ہوتا ہے کیونکہ ان کے بیانات نہ صرف میڈیا بلکہ عالمی سفارت کاری پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تازہ بیان نے ایک بار پھر انہیں عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اگرچہ اس واقعے کو بیشتر مبصرین نے زبان پھسلنے کا نتیجہ قرار دیا، تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اسے مزاح اور طنز کا موضوع بنا دیا۔ مستقبل میں بھی عالمی رہنماؤں کے بیانات اسی طرح فوری طور پر عوامی اور میڈیا کی توجہ حاصل کرتے رہیں گے، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب معمولی لفظی غلطی بھی عالمی سطح پر زیرِ بحث آ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں