40

امریکا ایران جنگ شدت اختیار کر گئی، تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ، عالمی منڈی میں نئے خدشات

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات، برینٹ خام تیل 85 ڈالر سے تجاوز، ماہرین نے مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر کر دیا

امریکا ایران جنگ کے اثرات عالمی منڈی تک پہنچ گئے

نیویارک (16 جولائی 2026): امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد دنیا بھر میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے سرمایہ کاروں، درآمد کنندگان اور توانائی سے وابستہ شعبوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 80.02 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت کی اہم شاہراہ

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ عالمی توانائی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس اہم سمندری راستے کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

حملوں کے بعد سپلائی متاثر ہونے کے خدشات

امریکا کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کے بعد یہ خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں کہ اگر تنازع بڑھا تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کار اسی خدشے کے باعث خام تیل کی خریداری میں دلچسپی بڑھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی میں معمولی رکاوٹ بھی پیدا ہوئی تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعتوں اور روزمرہ استعمال کی اشیا پر پڑتا ہے۔ خام تیل مہنگا ہونے سے درآمدی اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کے بعد مختلف ممالک میں مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک خصوصاً وہ ممالک جو تیل درآمد کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال معاشی دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

گولڈمین سیکس کی اہم پیش گوئی

عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات محدود رہیں یا آبنائے ہرمز میں ترسیل متاثر ہوئی تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اس پیش گوئی نے عالمی مارکیٹ میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے کیونکہ اس کا مطلب دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں مشرق وسطیٰ پر

عالمی سرمایہ کار اس وقت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہر نئی پیش رفت کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں، تاہم اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو عالمی توانائی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان سمیت درآمدی ممالک کے لیے چیلنج

پاکستان جیسے ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کا بڑھنا ایک بڑا معاشی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے کی صورت میں درآمدی بل میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر پٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداواری لاگت بڑھنے سے عوام پر مزید مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بلند سطح پر جا سکتی ہیں۔ اس صورتحال کا اثر نہ صرف عالمی معیشت بلکہ عام صارفین کی زندگی پر بھی پڑے گا، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی، صنعتی لاگت اور تجارتی سرگرمیوں پر براہ راست اثر مرتب ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں