26

ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے پر غور، ٹرمپ انتظامیہ کے ممکنہ فوجی آپشنز سامنے آگئے

وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ، فضائی حملوں میں توسیع، آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزائر اور جوہری تنصیبات بھی زیر غور

امریکا ایران کشیدگی میں ایک اور اہم موڑ

واشنگٹن (16 جولائی 2026): امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کئی اہم عسکری آپشنز زیر غور آئے ہیں، جن میں فضائی حملوں میں شدت، حساس ایرانی مقامات کو نشانہ بنانا اور بعض علاقوں میں زمینی افواج کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی اہم رپورٹ

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ کئی روز کے دوران اپنے قومی سلامتی اور دفاعی مشیروں سے متعدد بریفنگز حاصل کیں۔ ان بریفنگز میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات، ان کے اثرات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ مختلف عسکری منصوبوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ایران پر دباؤ مزید بڑھایا جا سکے۔

کن فوجی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر کے سامنے متعدد آپشنز رکھے گئے ہیں، جن میں ایران پر فضائی حملوں میں اضافہ، آبنائے ہرمز کے قریب واقع بعض ایرانی جزائر پر ممکنہ فوجی کارروائی، اور ایسے حساس مقامات کو نشانہ بنانا شامل ہے جہاں خفیہ جوہری سرگرمیوں کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان تجاویز کا مقصد ایران کی عسکری اور اسٹریٹجک صلاحیت کو محدود کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

سچویشن روم میں اعلیٰ سطحی اجلاس

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کی شام وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں اعلیٰ فوجی حکام، قومی سلامتی کے مشیران اور دیگر سرکاری عہدیدار شریک ہوئے۔

اجلاس میں آبنائے ہرمز کے قریب جزیرہ خرگ سمیت بعض اہم مقامات کی عسکری اہمیت، ممکنہ زمینی کارروائی، اور ایران کے اندر واقع ایک سرنگی کمپلیکس پر فضائی حملے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جوہری تنصیبات بھی زیر غور

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات سے منسلک اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق مختلف انٹیلی جنس رپورٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کی حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔

اس کے علاوہ توانائی کے مراکز اور دیگر حساس تنصیبات پر ممکنہ فضائی حملوں کے مختلف پہلوؤں پر بھی مشاورت کی گئی۔

آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر اس خطے میں فوجی کارروائیاں بڑھتی ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حساس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بحری نقل و حمل پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ٹرمپ کا ڈیڈ لائن سے متعلق بیان

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ سے صحافیوں نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی اور ڈیڈ لائن سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی معاملے میں پہلے سے ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت مذاکرات کی خواہاں ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ ملاقات یا معاہدے سے پہلے ایران کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی امریکا آئندہ اقدامات یا کسی ممکنہ سمجھوتے پر غور کرے گا۔

عالمی سطح پر بڑھتی تشویش

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ مختلف ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن اس بحران کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے فیصلے خطے کی مستقبل کی صورتحال کا تعین کریں گے۔

نتیجہ

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف مختلف فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں، عسکری تیاری اور عالمی ردعمل تینوں عوامل آنے والے دنوں میں اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں