رپورٹ۔۔۔۔ فضہ حسین
ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت سے ثقافتی شعبہ متاثر، تخلیق کاروں کے تحفظ کیلئے مضبوط پالیسیوں کی ضرورت: United Nations Educational, Scientific and Cultural Organization رپورٹ
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے United Nations Educational, Scientific and Cultural Organization (یونیسکو) نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں تیزی سے ہونے والی ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، بدلتے ہوئے تجارتی رجحانات اور فنکاروں کو درپیش مختلف خطرات عالمی ثقافتی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر بروقت اور مؤثر پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو تخلیق کاروں، فنکاروں اور ثقافتی صنعتوں سے وابستہ افراد کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یونیسکو کی رپورٹ بعنوان “Re-Shaping Policies for Creativity” (تخلیقیت کے لیے پالیسیوں کی تشکیل نو) اس امر پر زور دیتی ہے کہ ثقافتی اور تخلیقی صنعتیں نہ صرف معیشت کا اہم حصہ ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، قومی شناخت اور پائیدار ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق ان صنعتوں کی معاونت کے لیے موجود نظام کئی ممالک میں کمزور، غیر متوازن اور غیر مؤثر ہیں، جس کے باعث عملی سطح پر وہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے جو پالیسی دستاویزات میں بیان کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ 120 سے زائد ممالک سے حاصل کردہ اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ تقریباً 85 فیصد ممالک نے ثقافتی و تخلیقی صنعتوں کو اپنے قومی ترقیاتی منصوبوں کا حصہ تو بنایا ہے، لیکن صرف 56 فیصد ممالک نے ان شعبوں کے لیے واضح اور مخصوص اہداف مقرر کیے ہیں۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان نمایاں خلا موجود ہے۔ یعنی ثقافت اور تخلیقیت کو تسلیم تو کیا جا رہا ہے، مگر ان کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات ہر جگہ یکساں طور پر نہیں کیے جا رہے۔
ڈیجیٹل انقلاب نے تخلیقی شعبے کو ایک طرف نئے مواقع فراہم کیے ہیں تو دوسری طرف نئے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز نے فنکاروں کو عالمی سطح پر اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع دیا ہے، مگر اسی کے ساتھ آمدنی کی غیر منصفانہ تقسیم، کاپی رائٹ کے مسائل، اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری جیسے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال نے مواد کی تیاری کو تیز اور سستا بنایا ہے، لیکن اس سے انسانی تخلیق کاروں کے روزگار اور ان کے حقوق کے بارے میں نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
رپورٹ میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل عدم مساوات کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ کئی ترقی پذیر ممالک میں فنکاروں کو مناسب ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تربیت اور وسائل دستیاب نہیں، جس کے باعث وہ عالمی منڈی میں مسابقت نہیں کر پاتے۔ اس عدم توازن کے نتیجے میں عالمی ثقافتی اظہار میں چند ممالک اور کمپنیوں کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ مقامی اور علاقائی ثقافتیں پس منظر میں جا سکتی ہیں۔
یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل Khaled El-Enany خالد العنانی نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ موجودہ دور میں فنکاروں اور ثقافتی شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو ازسرنو اور مضبوط حمایت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلیاں تخلیقی صنعتوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لا رہی ہیں، جن کے اثرات براہ راست فنکاروں کے فن اور ان کے روزگار پر پڑ رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتیں اور پالیسی ساز ایسے قوانین اور فریم ورک تیار کریں جو تخلیق کاروں کے حقوق کا تحفظ کریں اور انہیں بدلتی ہوئی دنیا میں باوقار مقام فراہم کریں۔
رپورٹ اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ ثقافتی پالیسیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ صرف مالی معاونت کافی نہیں بلکہ قانونی تحفظ، منصفانہ معاوضہ، تربیتی پروگرامز، اور ڈیجیٹل مہارتوں کی فراہمی بھی لازمی ہے۔ مزید برآں، مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے شفاف اور اخلاقی اصول وضع کیے جائیں تاکہ تخلیقی مواد کی تیاری میں انسانی کردار کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
یونیسکو کا مؤقف ہے کہ اگر ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں کو واقعی معاشی ترقی اور پائیدار مستقبل کا ستون بنانا ہے تو انہیں ترجیحی بنیادوں پر مضبوط کیا جائے۔ اس کے لیے قومی سطح پر واضح اہداف، قابلِ عمل حکمتِ عملی اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ عالمی تعاون بھی ناگزیر ہے تاکہ ڈیجیٹل دور میں ثقافتی تنوع کو محفوظ رکھا جا سکے اور ہر خطے کے فنکاروں کو مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
مجموعی طور پر رپورٹ یہ پیغام دیتی ہے کہ تخلیقیت محض فن نہیں بلکہ معیشت، شناخت اور سماجی استحکام کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر موجودہ چیلنجز کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو تخلیقی شعبہ عدم توازن اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ پالیسی ساز ڈیجیٹل تبدیلی کے اس دور میں فنکاروں اور تخلیق کاروں کے تحفظ اور ترقی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھیں۔
24