مہنگا سرکاری طیارہ خریدنے پر پنجاب حکومت تنقید کی زد میں، اسمبلی سے سوشل میڈیا تک سوالات کی گونج پنجاب حکومت کی جانب سے جدید اور مہنگے سرکاری طیارے کی خریداری نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 19

مہنگا سرکاری طیارہ خریدنے پر پنجاب حکومت تنقید کی زد میں، اسمبلی سے سوشل میڈیا تک سوالات کی گونج
پنجاب حکومت کی جانب سے جدید اور مہنگے سرکاری طیارے کی خریداری نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ۔۔۔۔۔ فضہ حسین

مہنگا سرکاری طیارہ خریدنے پر پنجاب حکومت تنقید کی زد میں، اسمبلی سے سوشل میڈیا تک سوالات کی گونج
پنجاب حکومت کی جانب سے جدید اور مہنگے سرکاری طیارے کی خریداری نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صوبائی اسمبلی سے لے کر سوشل میڈیا تک اس فیصلے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور حکومت کو اپنی ترجیحات پر وضاحت دینا پڑ رہی ہے۔
یہ معاملہ 25 فروری کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جہاں حزب اختلاف نے احتجاجاً کاغذی ہوائی جہاز بنا کر ایوان میں اڑائے۔ بعض ارکان نے اپنے مائیکروفونز پر کاغذی جہاز چپکا کر اس اقدام کے خلاف علامتی احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں اس نوعیت کے اخراجات عوامی مسائل سے نظریں چرانے کے مترادف ہیں۔
حزب اختلاف کے قائد معین ریاض قریشی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے کروڑوں عوام جاننا چاہتے ہیں کہ اس طیارے کی خریداری کے لیے فنڈز کس مد سے جاری کیے گئے اور اس کا اصل مقصد کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ طیارہ مبینہ طور پر ’’ایئر پنجاب‘‘ کے لیے خریدا گیا ہے تو اس کا باقاعدہ چارٹر اور قانونی ڈھانچہ کیوں سامنے نہیں لایا گیا۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب صنعتیں مشکلات کا شکار ہیں، زراعت بحران سے گزر رہی ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور مہنگائی عروج پر ہے، ایک لگژری بزنس جیٹ کی خریداری عوامی ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کے بقول موجودہ نظام میں جوابدہی کا فقدان اس بات کی علامت ہے کہ بڑے فیصلے مؤثر احتساب کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ بعض ناقدین نے یہ بھی کہا کہ سرکاری افسران کو دی جانے والی مراعات اور سہولیات اسی طرز فکر کی عکاسی کرتی ہیں۔
تجزیہ کار محمد مالک نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری کے دعوؤں کے باوجود ایسے مہنگے طیارے کی خریداری حکومت کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔ ان کے مطابق غربت اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے دوران اس نوعیت کے اخراجات حکومتی ترجیحات پر بحث کو جنم دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ خریداری کا عمل شفاف کیوں نہیں رکھا گیا، کس ایجنٹ کے ذریعے معاہدہ طے پایا اور فوری طور پر اس درجے کے جدید طیارے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق خریدا گیا طیارہ Gulfstream Aerospace کا تیار کردہ ماڈل Gulfstream G500 ہے، جو چند ہفتے قبل شمالی امریکہ سے لاہور پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق یہ تقریباً چالیس روز تک علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود رہا جہاں اس کی تزئین و آرائش اور تکنیکی تیاری مکمل کی گئی۔ بعد ازاں اس نے 6 فروری کو لاہور سے ملتان تک پہلی پرواز کی، جبکہ اس کے بعد کوئٹہ، میانوالی اور سیالکوٹ کے سفر بھی کیے گئے۔
ایوی ایشن کے ماہر اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر طیارے کی ایک عملی عمر ہوتی ہے اور پچیس سال بعد اس کی دیکھ بھال پر اخراجات بڑھ جاتے ہیں، تاہم موجودہ معاشی تناظر میں اس درجے کے جدید طیارے کی خریداری پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی سفری ضروریات کو دیکھتے ہوئے کم لاگت اور محدود رینج والا طیارہ بھی کافی ہو سکتا تھا، کیونکہ صوبائی سطح پر بیرون ملک دورے نسبتاً کم ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر چارٹرڈ پرواز یا دیگر سرکاری وسائل بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
Gulfstream Aerospace کی ویب سائٹ کے مطابق جی 500 طیارہ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور ایک ہی فلائٹ میں 8,334 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں آرام دہ نشستوں اور جدید سہولیات کی گنجائش موجود ہے، جبکہ مختلف کنفیگریشنز میں آٹھ سے انیس افراد تک سفر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے اس تنقید کے جواب میں کہا کہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے پاس سرکاری جہاز موجود ہوتے ہیں اور یہ طیارہ بھی پنجاب حکومت کی ملکیت ہے، نہ کہ کسی فرد واحد کی۔ ان کے مطابق سابقہ طیارہ پچیس سال سے زیر استعمال تھا اور ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث نئے جہاز کی قیمت زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بھی اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب سیلاب متاثرین کو مکمل معاوضہ ادا نہیں کیا جا سکا تو ایسے مہنگے طیارے کی خریداری عوامی احساسات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے پاس پہلے ہی ایک جیٹ اور دو ہیلی کاپٹر موجود ہیں، لہٰذا اضافی فضائی سہولت کی فوری ضرورت پر وضاحت ہونی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بھرپور بحث جاری ہے۔ بعض صارفین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک طرف قومی ایئرلائن کو نسبتاً کم قیمت پر فروخت کیا گیا جبکہ دوسری جانب ایک واحد طیارے کی لاگت اربوں روپے تک پہنچ رہی ہے۔
مجموعی طور پر یہ معاملہ صرف ایک طیارے کی خریداری تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے حکومتی ترجیحات، مالی شفافیت اور عوامی توقعات سے متعلق ایک وسیع تر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پنجاب حکومت اس خریداری کی مکمل تفصیلات اور جواز عوام کے سامنے لاتی ہے یا یہ معاملہ سیاسی تنقید کی صورت میں مزید شدت اختیار کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں