پاکستان کے سابق کپتان شعیب ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد کپتانی کے معاملے پر غور شروع ہو گیا ہے اور آل راؤنڈر شاداب خان کو سلمان علی آغا کی جگہ ممکنہ کپتان بنایا جا سکتا ہے۔
شعیب ملک نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ شاداب خان کا نام اب ٹی 20 ٹیم کی قیادت کے لیے سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں پہلے کپتان بنایا جائے، لیکن وہ اس وقت زخمی تھے۔
انہوں نے کہا کہ آغا کی کمزور قیادت اور ورلڈ کپ میں محدود کارکردگی نے ان کی کپتانی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اسی پروگرام میں سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں کئی کپتان دیکھے ہیں، بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان سب نے قیادت کی ہے اور اب سلمان علی آغا کپتان ہیں۔
تاہم باسط علی نے خبردار کیا کہ شاداب مناسب انتخاب نہ بھی ہو اور یاد دلایا کہ افغانستان کے خلاف کپتانی کے دوران پاکستان نے ایک کمزور ٹیم سے شکست کھائی تھی۔
دوسری جانب سابق وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا آغا کپتانی کے لیے تیار تھے یا نہیں؟
انہوں نے کہا کہ ایشیاء کپ اور ورلڈ کپ میں کپتان کے طور پر ان کا سب سے بڑا سکور 12 میچوں میں 32 رنز رہا، پی سی بی کو ایسے کپتان کا انتخاب کرنا چاہیے جو فرنٹ سے قیادت کرے اور خود اچھی کارکردگی دکھائے، کیونکہ جب کپتان کارکردگی دکھاتا ہے تو ٹیم بھی بہتر کھیلتی ہے۔
واضح رہے کہ شاداب خان کی موجودہ ورلڈ کپ میں کارکردگی بھی بہترین نہیں رہی، 4 میچوں میں انہوں نے صرف 5 وکٹیں حاصل کی ہیں اور 93 رنز دیے ہیں، جس سے قیادت کے لیے ان کے موزوں ہونے پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔