لاہور: پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ Mike Hesson نے کہا ہے کہ قومی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف آئندہ سیریز کی تیاریوں میں بھرپور انداز میں مصروف ہے اور تمام کھلاڑی سخت محنت کر رہے ہیں۔ لاہور میں جاری وائٹ بال کیمپ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ٹیم کی تیاریوں، نئے کھلاڑیوں اور موسم کی سخت صورتحال پر تفصیلی بات کی۔
لاہور میں وائٹ بال کیمپ جاری
تفصیلات کے مطابق لاہور میں پاکستان وائٹ بال ٹیم کا تربیتی کیمپ جاری ہے جہاں کھلاڑی کوچنگ اسٹاف کی نگرانی میں ٹریننگ سیشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بتایا کہ کیمپ کے دوران آج وارم اپ میچ بھی کھیلا جا رہا ہے تاکہ کھلاڑیوں کی فارم، فٹنس اور مہارت کا جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں کئی نئے کھلاڑی شامل ہیں جن کے ساتھ انہیں پہلے کام کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، اس لیے یہ کیمپ نئے ٹیلنٹ کو جاننے اور سمجھنے کے لیے بہت اہم ثابت ہو رہا ہے۔
مائیک ہیسن کے مطابق کوچنگ اسٹاف کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی تیاری پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ ٹیم آسٹریلیا جیسی مضبوط حریف ٹیم کے خلاف بہتر کارکردگی دکھا سکے۔
نئے کھلاڑیوں کو موقع ملنے پر خوشی
ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کرکٹ میں کئی نئے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئے ہیں اور ٹیم مینجمنٹ ان نوجوان کرکٹرز کو مواقع دینے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے اور پرانے کھلاڑیوں کو ایک ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل رہا ہے جس سے ٹیم کے ماحول میں بہتری آتی ہے۔ ان کے مطابق نوجوان کھلاڑی سینئرز سے سیکھ رہے ہیں جبکہ تجربہ کار کھلاڑی بھی اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھا رہے ہیں۔
مائیک ہیسن نے کہا کہ کسی بھی ٹیم کی مضبوطی اس کے بینچ اسٹرینتھ پر منحصر ہوتی ہے اور پاکستان کے پاس اس وقت نوجوان ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔
شدید گرمی میں کھلاڑیوں کی ٹریننگ
ہیڈ کوچ نے لاہور کے موسم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت شہر میں شدید گرمی پڑ رہی ہے اور درجہ حرارت تقریباً 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، تاہم اس کے باوجود کھلاڑی بھرپور محنت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گرمی کے باوجود کھلاڑیوں کا جذبہ قابل تعریف ہے اور تمام کرکٹرز مکمل فٹنس کے ساتھ ٹریننگ سیشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق سخت موسمی حالات میں ٹریننگ کرنا کھلاڑیوں کی فزیکل اور مینٹل اسٹرینتھ کو مزید بہتر بناتا ہے۔
مائیک ہیسن نے بتایا کہ کوچنگ اسٹاف کھلاڑیوں کی ہائیڈریشن، فٹنس اور ریکوری پر خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ گرمی کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔
پاکستان واپس آکر خوشی محسوس ہو رہی ہے
ہیڈ کوچ نے گفتگو کے دوران کہا کہ ذاتی طور پر پاکستان واپس آکر انہیں بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان آنے سے قبل انہیں کچھ صحت کے مسائل کا سامنا تھا، تاہم اب ان کی طبیعت بہتر ہے اور وہ پوری توجہ کے ساتھ ٹیم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے پاکستانی شائقین کرکٹ کی محبت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کا جذبہ ہمیشہ خاص رہا ہے اور یہاں کے مداح اپنی ٹیم سے بے حد محبت کرتے ہیں۔
مائیک ہیسن کے مطابق پاکستانی کرکٹرز میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور اگر انہیں درست رہنمائی اور مستقل مواقع ملتے رہیں تو ٹیم مستقبل میں بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے۔
پی ایس ایل سے نئے ٹیلنٹ کو فائدہ
ہیڈ کوچ نے Pakistan Super League کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حالیہ پی ایس ایل کو بہت انجوائے کیا اور اس ٹورنامنٹ کے دوران کئی نئے کھلاڑی متاثر کن کارکردگی کے ساتھ سامنے آئے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل پاکستان کرکٹ کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں نوجوان کھلاڑی عالمی معیار کے کرکٹرز کے ساتھ کھیل کر اپنی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرتے ہیں۔
مائیک ہیسن کے مطابق لیگ کے دوران کئی نوجوان کرکٹرز نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا، جس سے ٹیم مینجمنٹ کو نئے آپشنز ملے ہیں۔
بولرز کو درپیش چیلنجز
ہیڈ کوچ نے گراؤنڈ کی کنڈیشنز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک سائیڈ پر شارٹ باؤنڈریز موجود ہیں جو بولرز کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید کرکٹ میں بیٹرز جارحانہ انداز اپناتے ہیں، اس لیے بولرز کو اپنی لائن اور لینتھ پر زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ بولرز کو مختلف حالات میں کھیلنے کی تربیت دے رہی ہے تاکہ وہ دباؤ کے لمحات میں بہتر فیصلے کر سکیں۔
آسٹریلیا کے خلاف سیریز اہم قرار
مائیک ہیسن نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز قومی ٹیم کے لیے بہت اہم ہوگی کیونکہ آسٹریلیا دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ٹیم اس سیریز کے لیے بھرپور تیاری کر رہی ہے اور کوشش ہوگی کہ شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹیم متحد ہو کر میدان میں اترے گی اور کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں گے۔