مومنہ اقبال ہراسانی کیس میں اہم پیش رفت

33

ثاقب چدھڑ نے الزامات پر تفصیلی جواب جمع کرا دیا

لاہور : پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے ہراسانی کے الزامات کے بعد ثاقب چدھڑ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی میں پیش ہو کر تفصیلی جواب اور ثبوت جمع کرا دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اپنی اہلیہ سمیرا کے ہمراہ لاہور میں قائم نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے دفتر پہنچے۔

چار گھنٹے تک انکوائری جاری

رپورٹس کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی میں تقریباً چار گھنٹے تک مسلسل انکوائری جاری رہی، جس دوران تفتیشی ٹیم نے ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کے بیانات قلمبند کیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش مختلف دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد بھی متعلقہ حکام کے حوالے کیے گئے تاکہ کیس کی مزید جانچ کی جا سکے۔

وکیل کی میڈیا سے گفتگو

بعد ازاں ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے موکل نے تفتیشی ٹیم کو درجنوں مضبوط ثبوت فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام شواہد واضح اور دوٹوک نوعیت کے ہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو ان کا فرانزک معائنہ بھی کروایا جا سکتا ہے تاکہ حقائق مکمل طور پر سامنے آ سکیں۔

کیس سے متعلق سنسنی خیز دعویٰ

وکیل میاں علی اشفاق نے دعویٰ کیا کہ اگر کیس کے تمام حقائق کو غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھا جائے تو معاملہ بظاہر مختلف رخ اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہراسانی سے متعلق جو الزامات سامنے آئے ہیں، ان کے حوالے سے دوسرے فریق کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ متعلقہ تحقیقاتی ادارے اور عدالتیں ہی کریں گی۔

تفتیش ابھی جاری ہے

وکیل صفائی کے مطابق کیس میں ابھی کئی مراحل باقی ہیں اور ان کے موکل قانون کے مطابق ہر مرحلے میں مکمل تعاون کریں گے۔

دوسری جانب نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے تاحال باضابطہ طور پر تحقیقات کے نتائج جاری نہیں کیے گئے، جبکہ کیس کی مزید چھان بین جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ

اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ صارفین شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ بعض افراد دونوں فریقین کے مؤقف سامنے آنے کا انتظار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں مکمل تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

شوبز اور سیاسی حلقوں کی توجہ

یہ کیس شوبز اور سیاسی حلقوں میں بھی خاصی توجہ حاصل کر چکا ہے کیونکہ اس میں ایک معروف اداکارہ اور ایک سیاسی شخصیت شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، جبکہ متعلقہ اداروں کی رپورٹ اور قانونی کارروائی کے بعد ہی اصل حقائق واضح ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں