ایران نے نیا فضائی دفاعی نظام متعارف کرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب آبنائے ہرمز کے قریب دشمن کے ڈرونز کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد خطے میں دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا اور ممکنہ فضائی خطرات کا مؤثر جواب دینا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے نئے فضائی دفاعی نظام کو “آرش کمان گیر” کا نام دیا ہے، جو فارسی اساطیر کے مشہور ہیرو آرش کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس جدید سسٹم کے ذریعے جدید ترین امریکی ڈرون MQ-9 Reaper کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا تجربہ بھی کیا گیا ہے۔
ایران کا نیا دفاعی نظام کیا ہے؟
ایرانی میڈیا کے مطابق نیا ایئر ڈیفنس سسٹم روایتی ریڈار ٹیکنالوجی سے ہٹ کر جدید اسٹیلتھ صلاحیتوں سے لیس ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام خفیہ انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن کے فضائی اہداف کو بغیر روایتی ریڈار سگنلز کے بھی ٹریک کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اس نظام کو خاص طور پر حساس علاقوں، بالخصوص آبنائے ہرمز کے قریب تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دشمن کے جاسوس ڈرونز اور جنگی طیاروں کی نگرانی کی جا سکے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس حساس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
ایران ماضی میں بھی بارہا آبنائے ہرمز میں اپنی فوجی موجودگی اور دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ نئے فضائی دفاعی نظام کے اعلان کو بھی خطے میں طاقت کے توازن سے جوڑا جا رہا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی دباؤ کا جواب؟
ماہرین کے مطابق ایران مسلسل امریکی اور اسرائیلی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، اسی لیے وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ شدید حملوں کی صورت میں بھی ایران اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب ایسے متحرک اور کم لاگت والے دفاعی نظام تیار کر رہا ہے جو روایتی ریڈار نیٹ ورکس تباہ ہونے کے بعد بھی مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔
مغربی ماہرین کی رائے
مغربی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا نیا دفاعی نظام کم خرچ، تیز رفتار اور بغیر روایتی ریڈار کے کام کرنے والی ٹیکنالوجی پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کے نظام دشمن کے لیے نئے چیلنجز پیدا کرتے ہیں کیونکہ انہیں ٹریک کرنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کی حکمت عملی اب مہنگے روایتی دفاعی نظاموں کے بجائے چھوٹے، موبائل اور خفیہ ہتھیاروں پر زیادہ انحصار کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔
خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
ایران کے اس اعلان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران واقعی جدید امریکی ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا نیا نظام امریکا اور اسرائیل کو دور سے زیادہ مہنگے اور جدید ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، جس سے خطے میں عسکری مقابلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ایران کی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی
حالیہ برسوں میں ایران نے اپنی دفاعی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ اب ایران روایتی جنگی نظاموں کے بجائے ایسے جدید اور موبائل دفاعی سسٹمز پر توجہ دے رہا ہے جو کم لاگت کے باوجود مؤثر نتائج دے سکیں۔
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ نیا فضائی دفاعی نظام نہ صرف ملک کی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا بلکہ دشمن کو واضح پیغام بھی دے گا کہ ایران کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔