آبنائے ہرمز سے 700 بحری جہاز گزرنے کا غیر معمولی دعویٰ
میری لینڈ (20 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میری لینڈ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے اور تقریباً 700 بحری جہاز اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، اور اس بڑھتی ہوئی ٹریفک سے عالمی کمپنیوں میں خوشی کی لہر ہے کیونکہ تجارتی سرگرمیاں بہتر ہو رہی ہیں۔
ایران کے ساتھ معاہدے اور 60 روزہ ڈیڈلائن
اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم حتمی ڈیل کے لیے 60 دن کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس مدت کے اندر مکمل معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا سخت اقدامات پر غور کرے گا۔ ان کے مطابق، “اگر 60 دن میں معاہدہ نہ ہوا تو ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو ایران کے لیے خوشگوار نہیں ہوں گے۔”
تاہم انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ حتمی معاہدہ طے پا جائے گا اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہیں جائے گی۔
ایران کو سخت انتباہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے، لیکن اگر معاہدہ نہ ہوا تو واشنگٹن اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں استحکام چاہتا ہے اور کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
سعودی عرب، یو اے ای اور علاقائی قیادت کا شکریہ
اپنے خطاب کے دوران امریکی صدر نے سعودی عرب کے بادشاہ اور ولی عہد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خطے میں امن کے لیے ان کا کردار قابل تعریف ہے۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین اور مؤثر رہنما ہیں جنہوں نے علاقائی استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
روس یوکرین جنگ پر تشویش
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں اب تک تقریباً 34 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو اور خطے میں امن قائم کیا جا سکے۔
چین سے تعلقات اور مستقبل کے دورے
امریکی صدر نے چین کے حوالے سے بھی اہم بیان دیا۔ ان کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ ستمبر میں امریکا کا دورہ کریں گے، جبکہ وہ خود بھی مستقبل میں چین کا دورہ کریں گے جہاں ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے چین کے صدر سے آبنائے ہرمز کے معاملے میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر چین نے مثبت جواب دیا اور اس معاملے میں مداخلت نہیں کی۔
عالمی سفارت کاری اور بڑھتی ہوئی کشیدگی
ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے یہ بیانات عالمی سیاست، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کے راستوں پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل ترسیلی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
سوئٹزرلینڈ مذاکرات کا امکان
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
اختتامیہ
میری لینڈ میں اپنی تقریر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی بحری ٹریفک، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے، روس یوکرین جنگ اور چین سے تعلقات جیسے اہم عالمی امور پر اظہار خیال کیا۔ ان کے بیانات نے ایک بار پھر عالمی سفارتی منظرنامے میں بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں ان پالیسیوں کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔