26

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری، جسد خاکی آج تہران سے قم منتقل کیا جائے گا

ایران میں سوگ کی فضا برقرار

ایران کے سابق سپریم لیڈر، شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر میں سوگ کی کیفیت برقرار ہے جبکہ لاکھوں افراد اپنے محبوب رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف شہروں میں جمع ہو رہے ہیں۔

آج ان کا جسد خاکی تہران سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مقدس شہر قم منتقل کیا جائے گا، جہاں عوام آخری دیدار کے بعد نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔

تہران میں تاریخی نماز جنازہ

گزشتہ روز تہران کے معروف مذہبی مرکز امام خمینی مصلیٰ سمیت تین مختلف مقامات پر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

نماز جنازہ میں عوام کی غیرمعمولی تعداد نے شرکت کی جبکہ ایران کی سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔ سوگوار شہریوں نے اپنے رہنما کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا۔

جسد خاکی قم منتقل کیا جائے گا

سرکاری شیڈول کے مطابق آج آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے تہران سے قم لے جایا جائے گا۔

قم میں نماز جنازہ، دعائیہ تقریبات اور عوامی آخری دیدار کا اہتمام کیا جائے گا، جہاں بڑی تعداد میں زائرین اور عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے۔

نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا

قم میں رسومات مکمل ہونے کے بعد جسد خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا بھی منتقل کیا جائے گا تاکہ وہاں موجود لاکھوں عقیدت مند آخری دیدار کر سکیں۔

منتظمین کے مطابق ان دونوں مقدس شہروں میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور سکیورٹی کے سخت اقدامات بھی نافذ کیے گئے ہیں۔

9 جولائی کو مشہد میں تدفین

عراق میں آخری رسومات کے بعد شہید رہنما کا جسد خاکی ان کے آبائی شہر مشہد منتقل کیا جائے گا۔

سرکاری اعلان کے مطابق 9 جولائی کو انہیں امام رضاؑ کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

نماز جنازہ میں اہل خانہ بھی شریک

امام خمینی مصلیٰ میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور کم سن نواسی زہرا محمدی سمیت دیگر اہل خانہ موجود تھے۔

نماز جنازہ معروف عالم دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے تین مراحل میں پڑھائی۔

تین روز تک عوامی آخری دیدار

آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی تین روز تک تہران کے امام خمینی مصلیٰ کمپلیکس میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا۔

اس دوران ملک بھر سے آنے والے لاکھوں افراد نے ان کے آخری دیدار کیے، فاتحہ خوانی کی اور انہیں پرسوز انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔

تاریخی اجتماع میں ملکی و عالمی شخصیات کی شرکت

مرکزی نماز جنازہ میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، اعلیٰ فوجی حکام اور دیگر اہم سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔

اس کے علاوہ مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے بھی آخری رسومات میں شرکت کر کے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای نماز جنازہ کی پہلی صف میں موجود تھے، جبکہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث جنازے میں شریک نہ ہو سکے۔

تحقیقات اور سکیورٹی انتظامات پر عالمی توجہ

آخری رسومات کے دوران ایران بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ لاکھوں افراد کی آمد کے باعث مختلف شہروں میں خصوصی ٹریفک پلان اور حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں مکمل ہونے کے بعد سوگ کی سرکاری تقریبات بھی اپنے اختتام کو پہنچیں گی، جبکہ دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں