لزبن (یکم جولائی 2026): پاکستان نے زرعی شعبے میں ایک اہم بین الاقوامی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل زیتون کونسل (IOC) کی مستقل رکنیت حاصل کر لی ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان میں زیتون کی کاشت، زیتون کے تیل کی پیداوار اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ہونے والے آئی او سی کے اجلاس میں پاکستان نے پہلی مرتبہ مستقل رکن ملک کی حیثیت سے شرکت کی، جہاں رکن ممالک نے پاکستانی وفد کا خیر مقدم کیا اور اس کامیابی کو سراہا۔
پاکستانی وفد کی قیادت رانا تنویر حسین نے کی
لزبن میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستانی وفد کی قیادت کی، جبکہ پرتگال میں پاکستان کی سفیر عائشہ فاروقی بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔
اجلاس کے دوران مختلف رکن ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں زیتون کی پیداوار، جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیار کی بہتری اور باہمی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
27 زیتون پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ پہلی شرکت
مستقل رکنیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان پہلی بار زیتون پیدا کرنے والے 27 ممالک کے ساتھ آئی او سی کے اجلاس میں شریک ہوا۔
اجلاس میں پاکستان کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیا گیا اور رکن ممالک نے امید ظاہر کی کہ پاکستان مستقبل میں زیتون کی صنعت، تحقیق، معیار اور تجارت کے شعبوں میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
رانا تنویر حسین کا خطاب
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اپنے خطاب میں انٹرنیشنل زیتون کونسل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس عالمی ادارے کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا اور زیتون کے شعبے کی مزید ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور حکومت جدید زرعی ٹیکنالوجی، کسانوں کی تربیت اور سرمایہ کاری کے ذریعے اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
پاکستان میں زیتون کی کاشت میں نمایاں پیش رفت
وفاقی وزیر کے مطابق ملک بھر میں اس وقت تقریباً 55 ہزار 500 ایکڑ رقبے پر 70 لاکھ سے زائد زیتون کے درخت لگائے جا چکے ہیں، جو پاکستان میں زیتون کی صنعت کے تیزی سے پھیلنے کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف صوبوں میں نئے باغات لگائے جا رہے ہیں جبکہ کسانوں کو بہتر اقسام کے پودے، جدید مشینری اور تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ پیداوار اور معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
جدید اولیو آئل یونٹس اور لیبارٹریاں فعال
رانا تنویر حسین نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 51 جدید اولیو آئل ایکسٹریکشن یونٹس کام کر رہے ہیں، جہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اعلیٰ معیار کا زیتون کا تیل تیار کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ ملک میں 4 جدید کوالٹی لیبارٹریاں بھی فعال ہیں، جہاں زیتون کے تیل کے معیار کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جانچا جاتا ہے تاکہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔
پاکستانی زیتون کے تیل کو عالمی اعزاز
وفاقی وزیر نے اس موقع پر بتایا کہ گزشتہ سال پاکستانی زیتون کے تیل نے عالمی سطح پر بھی اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا، جب نیویارک انٹرنیشنل اولیو آئل مقابلے میں پاکستان کو سلور ایوارڈ سے نوازا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والا زیتون کا تیل معیار کے لحاظ سے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
زرعی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت
ماہرین کے مطابق انٹرنیشنل زیتون کونسل کی مستقل رکنیت پاکستان کے لیے کئی نئے مواقع پیدا کرے گی۔ اس سے جدید تحقیق، عالمی معیار، زرعی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر زیتون کی صنعت پر توجہ دیتے رہے تو پاکستان مستقبل میں معیاری زیتون اور زیتون کے تیل کی پیداوار بڑھا کر عالمی منڈی میں اپنی مضبوط شناخت قائم کر سکتا ہے۔
پاکستان کی آئی او سی میں مستقل رکنیت نہ صرف زرعی شعبے کے لیے ایک اہم کامیابی ہے بلکہ یہ ملک کی زرعی معیشت، برآمدات اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کی جانب بھی ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔