24

ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، پاک بھارت جنگ رکوا کر کروڑوں جانیں بچائیں، 11 طیارے گرائے جانے کا بھی انکشاف

واشنگٹن: صدر ٹرمپ کے حیران کن دعوے

واشنگٹن (3 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم دعوے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سفارتی کوششوں کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو روکنا ممکن ہوا، جس سے تقریباً 3 کروڑ افراد کی جانیں بچ گئیں۔ ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں فضائی جھڑپوں، ایران کی موجودہ صورتحال، ایلون مسک اور اپنی صدارتی مدت سے متعلق بھی اہم باتیں کیں۔

پاک بھارت جنگ روکنے کا دعویٰ

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر بروقت سفارتی اقدامات نہ کیے جاتے تو جنوبی ایشیا میں ایک بڑی جنگ چھڑ سکتی تھی۔ ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطرناک صورت اختیار کر رہی تھی، تاہم انہوں نے دونوں ممالک سے رابطے کیے اور جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی مداخلت کے نتیجے میں ایک ممکنہ تباہ کن جنگ ٹل گئی، جس سے لاکھوں نہیں بلکہ تقریباً 3 کروڑ افراد کی زندگیاں محفوظ رہیں۔

پاکستانی وزیراعظم کے اعتراف کا دعویٰ

امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں دعویٰ کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے بھی ان سے ملاقات کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ جنگ رکوانے میں ان کا کردار اہم تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی تھی۔ تاہم ٹرمپ نے اس حوالے سے مزید تفصیلات یا کسی باضابطہ بیان کا ذکر نہیں کیا۔

11 طیارے گرائے جانے کا دعویٰ

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تصادم میں مجموعی طور پر 11 طیارے گرائے گئے تھے۔

انہوں نے اس دعوے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ ان میں کس ملک کے کتنے طیارے شامل تھے۔ تاہم ان کا یہ بیان ایک مرتبہ پھر جنوبی ایشیا کی حالیہ کشیدگی کو عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنا رہا ہے۔

مودی کے لیے نئی مشکل؟

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی امریکی صدر پاک بھارت تنازع پر ثالثی اور جنگ رکوانے کے حوالے سے متعدد بیانات دے چکے ہیں۔

ٹرمپ کے تازہ دعوے کے بعد ایک بار پھر اس معاملے پر سیاسی بحث شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے اس پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ایران سے متعلق بڑا دعویٰ

صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور وہاں مہنگائی کی شرح 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا نیا ریڈار سسٹم بھی حالیہ کارروائی میں تباہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ایران کے پاس کوئی فعال ریڈار سسٹم موجود نہیں رہا۔ تاہم انہوں نے اس کارروائی کی مزید تفصیلات یا کسی ذمہ دار فریق کا نام نہیں بتایا۔

ایلون مسک کو مبارکباد

امریکی صدر نے دنیا کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایلون مسک کو دنیا کا پہلا “ٹریلینئر” بننے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

ٹرمپ نے ایلون مسک کی کاروباری کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس کی دنیا بھر میں مثال دی جاتی ہے۔

تنخواہ نہ لینے کا دعویٰ

اپنی صدارتی مدت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکا کے واحد صدر ہیں جنہوں نے اپنی سرکاری تنخواہ لینے سے انکار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدارتی تنخواہ ایک بڑی رقم ہوتی ہے، لیکن انہوں نے عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہوئے یہ تنخواہ وصول نہیں کی، جسے وہ اپنی اہم قربانیوں میں شمار کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر توجہ کا مرکز

ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر میں مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت کے حوالے سے مختلف چیلنجز زیر بحث ہیں۔ ان کے دعوؤں نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان، بھارت، ایران اور امریکا سے متعلق ٹرمپ کے حالیہ بیانات آنے والے دنوں میں عالمی سفارتی حلقوں میں مزید گفتگو کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے ان دعوؤں پر ردعمل بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے کیے گئے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ متعلقہ ممالک کی جانب سے بعض معاملات پر سرکاری مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں