26

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کا اہم کردار، سابق امریکی سفیر کا انکشاف

واشنگٹن (29 جون 2026): امریکا کے سابق سفیر رچرڈ شرمر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کم کرانے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق قطر نے بھی اس عمل میں پاکستان کے ساتھ مل کر ثالثی کی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک حملے روکنے اور سفارتی رابطے بحال کرنے پر آمادہ ہوئے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی سفیر نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا اور یہی کوششیں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بات چیت کا سبب بنیں۔

پاکستان کی ثالثی سے مذاکرات کی راہ ہموار

رچرڈ شرمر کے مطابق پاکستان نے پس پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک نے ایک بار پھر مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں براہ راست بات چیت ہی خطے میں امن اور استحکام کا واحد مؤثر راستہ ہے، جبکہ فوجی کارروائیاں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہیں۔

قطر بھی ثالثی کے عمل میں شامل

سابق امریکی سفیر نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ قطر نے بھی اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے امریکا اور ایران کو مزید حملے روکنے پر آمادہ کیا، جس کے بعد کشیدگی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ منگل کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان اور قطر بطور ثالث شریک ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔

دوحہ مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید

رچرڈ شرمر کا کہنا تھا کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت نہ صرف حالیہ تنازع کے خاتمے بلکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچاؤ کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری، خطے میں امن اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

فوجی کارروائیاں فی الحال رک گئیں

سابق امریکی سفیر کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے حالیہ فوجی کارروائیوں کا سلسلہ فی الحال رک چکا ہے، جس سے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کا موقع ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے دوران امریکا اور ایران نے اپنے اپنے مؤقف کو واضح کرنے کی کوشش کی، تاہم اب دونوں فریق اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ مسائل کا مستقل حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر پاکستان نے واقعی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں مؤثر کردار ادا کیا ہے تو یہ اس کی سفارتی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔

پاکستان ماضی میں بھی مختلف علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں مذاکرات اور امن کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ موجودہ پیش رفت سے عالمی سطح پر اس کے سفارتی کردار کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

خطے میں امن کے لیے سفارت کاری ضروری

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے، اس لیے تمام فریقوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔

اگر پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک کی کوششیں کامیاب رہیں تو نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید کمی آ سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

عالمی برادری کی نظریں مذاکرات پر

بین الاقوامی برادری اس وقت دوحہ میں متوقع مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ مختلف ممالک امید ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ بات چیت خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دن امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ ان مذاکرات کے نتائج نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی منڈی اور علاقائی استحکام پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں