10

ایران میں غلام حسین محسنی دوبارہ چیف جسٹس مقرر، مجتبیٰ خامنہ ای نے تقرر کی منظوری دے دی

ایران کی عدلیہ میں اہم پیش رفت

ایران میں عدالتی نظام سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں غلام حسین محسنی کو دوبارہ ملک کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا ہے۔ ان کی تقرری کا باضابطہ اعلان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے جاری کردہ تقررنامے کے ذریعے کیا گیا۔

اس فیصلے کو ایران کے عدالتی نظام میں تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی اور قانونی حلقوں میں بھی اس تقرری پر مختلف تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے خدمات کو سراہا

تقررنامے میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے غلام حسین محسنی کی بطور سربراہ عدلیہ سابقہ خدمات کو قابلِ قدر اور مخلصانہ قرار دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی عدلیہ آئندہ بھی ملکی آئین، قوانین اور اسلامی اصولوں کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرتی رہے گی۔

عدلیہ میں تسلسل برقرار رکھنے کا فیصلہ

تجزیہ کاروں کے مطابق غلام حسین محسنی کی دوبارہ تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ ایرانی قیادت عدالتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

ان کے دور میں عدلیہ نے کئی اہم مقدمات کی نگرانی کی، جبکہ داخلی سلامتی اور امن و امان سے متعلق معاملات پر بھی عدالتی فیصلے نمایاں رہے۔

سخت گیر مؤقف کے لیے معروف

غلام حسین محسنی ایران میں امن و امان برقرار رکھنے اور حکومت مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے سخت مؤقف رکھنے والے اعلیٰ عدالتی عہدیدار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

انہوں نے اپنے سابقہ دور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی تھی کہ عوامی امن کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی مؤثر انداز میں کی جائے۔

مظاہرین سے متعلق مؤقف

رواں سال جنوری میں غلام حسین محسنی نے اعلان کیا تھا کہ گرفتار ہونے والے مظاہرین اور دیگر ملزمان کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا تاکہ عدالتی کارروائی میں تاخیر نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ہر مقدمے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔

دوبارہ تقرری کے بعد بیان

دوبارہ چیف جسٹس مقرر ہونے کے بعد غلام حسین محسنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں بدامنی پھیلانے والے بعض عناصر غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسے افراد ایران کے دشمن ممالک، خصوصاً اسرائیل اور امریکہ، کے مقاصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

ایرانی عدلیہ کے لیے نئے دور کا آغاز

غلام حسین محسنی کی دوبارہ تعیناتی کو ایرانی عدلیہ کے لیے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عدلیہ آئندہ بھی انصاف کی فراہمی، قانون کی بالادستی اور داخلی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

دوسری جانب سیاسی مبصرین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ نئی مدت کے دوران عدلیہ داخلی سلامتی، سیاسی مقدمات اور عوامی احتجاج سے متعلق معاملات کو کس انداز میں آگے بڑھاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں