گل پلازہ سانحہ ایک بار پھر خبروں کی زینت
کراچی میں رواں برس جنوری میں پیش آنے والے گل پلازہ آتشزدگی کے المناک سانحے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گل پلازہ یونین نے پولیس کی جانب سے کی گئی تفتیش کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات یکطرفہ انداز میں کی گئیں اور اصل ذمہ داروں کو نظر انداز کیا گیا۔
یونین نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
آتشزدگی میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے
رواں سال جنوری میں گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ نے درجنوں خاندانوں کو سوگوار کر دیا تھا۔ اس سانحے میں 70 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
واقعے کے بعد حکومتی سطح پر مختلف تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور کئی اداروں نے اپنی اپنی رپورٹس تیار کیں، تاہم اب تک حادثے کے تمام ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا۔
پولیس نے پانچ افراد کو ذمہ دار قرار دیا
کراچی پولیس نے اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد عدالت میں چالان جمع کرایا، جس میں گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر حذیفہ عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان اور جس دکان سے آگ شروع ہونے کا دعویٰ کیا گیا اس کے مالک نعمت اللہ کو بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا۔
تاہم پراسیکیوشن نے پولیس کی تفتیش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے چالان پر اعتراضات عائد کیے اور اسے مزید تحقیق کے لیے واپس بھیج دیا۔
یونین نے عدالت سے رجوع کر لیا
پولیس تفتیش پر اعتراض کرتے ہوئے گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا اور دیگر عہدیداروں نے عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس نے حقائق کا درست جائزہ لینے کے بجائے متاثرہ افراد کو ہی ملزم بنا دیا، جبکہ سرکاری اداروں کی مبینہ غفلت کو نظر انداز کیا گیا۔
سرکاری اداروں پر غفلت کا الزام
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ گل پلازہ راکھ کا ڈھیر سرکاری اداروں کی غفلت اور حفاظتی اقدامات کی ناکامی کے باعث بنا۔
ان کے مطابق اگر متعلقہ ادارے عمارت کے حفاظتی نظام، فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات پر بروقت توجہ دیتے تو اتنا بڑا جانی نقصان نہ ہوتا۔
کم عمر بچے کو بھی ملزم بنانے پر اعتراض
یونین عہدیداروں نے پولیس کی تفتیش پر ایک اور سنگین اعتراض بھی اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسران نے ایک کم عمر بچے کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کر دیا، جو انصاف کے تقاضوں اور قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ تفتیش کے تمام پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
حساس اداروں سے بھی تحقیقات کا مطالبہ
گل پلازہ یونین نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس سانحے کی تحقیقات صرف پولیس تک محدود نہ رکھی جائیں بلکہ حساس اداروں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات ممکن ہو سکیں۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ متعدد اہم شواہد اور ممکنہ ذمہ داروں کو موجودہ تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا۔
عدالتی کارروائی پر نظریں مرکوز
سانحہ گل پلازہ کے متاثرین، تاجروں اور شہریوں کی نظریں اب عدالتی کارروائی پر مرکوز ہیں۔ ایک جانب پولیس اپنی تفتیش کو درست قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب یونین اس تفتیش کو نامکمل اور غیر منصفانہ قرار دے رہی ہے۔
اب عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا پولیس کی تحقیقات مزید وسعت کی متقاضی ہیں یا موجودہ شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ گل پلازہ سانحہ پاکستان کے حالیہ برسوں کے المناک ترین آتشزدگی کے واقعات میں شمار ہوتا ہے، جس میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔