تقریروں کے مسودے سے مبینہ فائدہ اٹھا کر شرطیں لگانے کا الزام، وائٹ ہاؤس نے اہلکار کو بغیر تنخواہ جبری رخصت پر بھیج دیا
وائٹ ہاؤس میں بڑا تنازع سامنے آگیا
امریکا میں وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقاریر سے متعلق حساس معلومات کا مبینہ غلط استعمال کرنے کا الزام سامنے آنے کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ اہلکار کو فوری طور پر بغیر تنخواہ جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ معاملے کی باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔ اس انکشاف نے وائٹ ہاؤس کے اندر سیکیورٹی اور معلومات کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گیبریل پیریز پر کیا الزام ہے؟
رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سینئر آپریٹر گیبریل پیریز پر الزام ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہم تقاریر کا مسودہ پہلے ہی دیکھ لیتے تھے اور انہی معلومات کی بنیاد پر آن لائن پیش گوئی مارکیٹ میں خفیہ طور پر شرطیں لگاتے تھے۔ حکام کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ سرکاری معلومات کے ناجائز استعمال اور مفادات کے ٹکراؤ کا سنگین معاملہ ہوگا۔
2016 سے ٹرمپ کے ساتھ کام کر رہے تھے
امریکی میڈیا کے مطابق گیبریل پیریز 2016 سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مختلف انتظامی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ اس دوران انہیں صدر کی متعدد اہم تقریروں کی تیاری اور انتظامی امور تک رسائی حاصل رہی۔ یہی رسائی مبینہ طور پر انہیں ایسی معلومات فراہم کرتی رہی جنہیں بعد میں شرطیں لگانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
کن تقاریر پر شرطیں لگائی گئیں؟
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گیبریل پیریز نے صدر ٹرمپ کی ایک درجن سے زائد تقاریر پر مالی شرطیں لگائیں۔ ان میں اسٹیٹ آف دی یونین خطاب، دسمبر کا پرائم ٹائم خطاب، جنوری میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب اور مارچ میں میڈل آف آنر تقریب سے متعلق تقریر بھی شامل تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں تقریباً تین ماہ تک جاری رہیں۔
ایک لاکھ ڈالر سے زائد منافع کا دعویٰ
امریکی میڈیا کے مطابق گیبریل پیریز نے ان مبینہ شرطوں کے ذریعے ایک لاکھ امریکی ڈالر سے زائد رقم کمائی۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب آن لائن پیش گوئی مارکیٹ Kalshi نے مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ ریگولیٹری ادارے CFTC کو آگاہ کیا۔ بعد ازاں اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
حساس معلومات کے غلط استعمال کا الزام
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق گیبریل پیریز پر الزام ہے کہ وہ صدر کی تقاریر کے مسودوں میں موجود حساس اور غیر اعلانیہ معلومات کو ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات میں یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ نہایت سنگین ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی۔
صدر ٹرمپ کا ردعمل
ترجمان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس پورے معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ صدر نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے اور اسے وائٹ ہاؤس کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ صدر کی ہدایت پر معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
تحقیقات جاری، مزید کارروائی کا امکان
ذرائع کے مطابق متعلقہ ادارے اب یہ جانچ رہے ہیں کہ آیا سرکاری معلومات کا استعمال کسی منظم انداز میں کیا گیا یا یہ انفرادی عمل تھا۔ اگر تحقیقات میں الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو متعلقہ اہلکار کے خلاف مزید انتظامی یا قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اس واقعے نے حکومتی اداروں میں حساس معلومات کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
نتیجہ
وائٹ ہاؤس کے سینئر اہلکار گیبریل پیریز کی معطلی نے امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صدر ٹرمپ کی تقاریر سے متعلق حساس معلومات کے مبینہ غلط استعمال اور آن لائن شرطوں کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ تحقیقات کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں اور متعلقہ حکام اس معاملے میں کیا کارروائی کرتے ہیں۔