30

امریکا کے ایران پر بڑے فضائی حملے، پاسداران انقلاب کے درجنوں ٹھکانے نشانہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

امریکا کا ایران کے خلاف بڑا فوجی آپریشن

واشنگٹن (30 جولائی 2026): امریکا نے ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے رات گئے پاسداران انقلاب (IRGC) کے متعدد فوجی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ان حملوں میں فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی کے نظام اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید شدت دے دی ہے اور عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا مؤقف

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ کیے گئے اور ان کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔ حکام کے مطابق کارروائی میں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو خطے میں امریکی مفادات اور اتحادی ممالک کے لیے خطرہ سمجھے جا رہے تھے۔

سینٹکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران جدید جنگی طیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار استعمال کیے گئے تاکہ مخصوص اہداف کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا سکے۔

اردن میں امریکی اڈے پر حملے کا جواب

امریکی حکام کے مطابق یہ فضائی کارروائی ایران کی جانب سے ایک روز قبل اردن میں امریکی فوجی اڈے پر مبینہ میزائل حملے کے جواب میں کی گئی۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ امریکی افواج اور تنصیبات پر حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور خطے میں امریکی اہلکاروں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

امریکی انتظامیہ نے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں بھی امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

فوجی کارروائی مزید دو ہفتے جاری رہنے کا امکان

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی آئندہ دو ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا مختلف اہداف کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید فضائی حملے کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ کارروائی طویل مدت تک جاری رہی تو پورے خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کی ممکنہ شمولیت

رپورٹس کے مطابق امریکا اپنے اتحادی اسرائیل کو بھی مستقبل کی کارروائیوں میں شامل کر سکتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ممکنہ شمولیت خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور دیگر علاقائی ممالک بھی اس تنازع سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایران میں مختلف مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے دوران بو شہر، اہواز، خوزستان، شادگان، اروند نہر، جزیرہ قشم اور جزیرہ کیش سمیت متعدد علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ کئی فوجی اور ساحلی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بعض مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم نقصانات اور جانی نقصان کے حوالے سے مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

کویت سے حملوں کا دعویٰ

ایرانی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران پر امریکی میزائل حملے کویت سے کیے گئے، تاہم امریکا یا کویت کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ اس معاملے پر مختلف ذرائع سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہونا ضروری ہے کیونکہ جنگی حالات میں اطلاعات تیزی سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

بحری ناکہ بندی مزید سخت

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی مزید سخت کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ سینٹکام کے مطابق امریکی بحریہ خلیجی پانیوں میں سرگرم ہے اور ایران سے متعلق مشکوک بحری نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

بیان کے مطابق 29 جولائی تک 20 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا جبکہ کارروائی کے دوران دو تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا اور دو جہازوں کی مکمل تلاشی بھی لی گئی۔

عالمی برادری میں تشویش

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ کئی ممالک نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم بڑھتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید نازک

خطے میں پہلے ہی مختلف تنازعات جاری ہیں، ایسے میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں پورے مشرق وسطیٰ کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر سکتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز اس بحران کی سمت کا تعین کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔

نتیجہ

امریکا کی جانب سے ایران میں پاسداران انقلاب کے متعدد فوجی ٹھکانوں پر حملے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اپنے فوجیوں اور مفادات کے دفاع کے لیے کی گئی، جبکہ ایران نے مختلف علاقوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی سفارتی مذاکرات کی طرف بڑھے گی یا مزید فوجی تصادم کا سبب بنے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں