34

سیکیورٹی خدشات پر ٹرمپ نے ترکی سے روانگی کے وقت اچانک طیارہ تبدیل کر لیا، امریکی اخبار کا انکشاف

نیویارک ٹائمز کا دعویٰ، سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹرمپ نے طیارہ تبدیل کر لیا

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ ترکی سے روانگی کے وقت سیکیورٹی خدشات کے باعث اچانک اپنا طیارہ تبدیل کر لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو ایک سنگین دھمکی موصول ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران سے وابستہ پراکسی گروپس صدر ٹرمپ اور ان کے سرکاری طیارے ایئر فورس ون کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد امریکی سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے۔

نیٹو اجلاس کے دوران سامنے آیا سیکیورٹی الرٹ

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔ وہ قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے کے ذریعے انقرہ پہنچے تھے، تاہم واپسی کے سفر سے قبل امریکی حکام کو ممکنہ حملے کی اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ دھمکی صدر کے سفر کے دوران موصول ہوئی، جس پر سیکرٹ سروس اور دیگر متعلقہ اداروں نے فوری مشاورت کا آغاز کیا۔

نیا طیارہ مکمل حفاظتی نظام سے لیس نہیں تھا

نیویارک ٹائمز کے مطابق قطری تحفے میں ملنے والا نیا بوئنگ 747-8 ابھی تک ان تمام جدید دفاعی اور حفاظتی نظاموں سے مکمل طور پر لیس نہیں تھا جو امریکی صدر کے سرکاری طیارے میں موجود ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے سیکرٹ سروس نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ واپسی کے لیے نیا طیارہ استعمال نہ کریں بلکہ پرانے اور مکمل طور پر محفوظ ایئر فورس ون کے ذریعے روانہ ہوں۔

حکام کا کہنا تھا کہ موجودہ خطرات کے پیش نظر کسی بھی قسم کا رسک لینا مناسب نہیں تھا۔

سیکرٹ سروس نے فوری فیصلہ کیا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت کو جیسے ہی ممکنہ حملے کی اطلاع ملی، سیکرٹ سروس نے صدر کو فوری طور پر طیارہ تبدیل کرنے کی سفارش کی۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے بھی اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ پرانے سرکاری طیارے کے ذریعے امریکا واپس جائیں گے۔ یہ فیصلہ انتہائی کم وقت میں کیا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکام اس دھمکی کو سنجیدہ سمجھ رہے تھے۔

ایرانی پراکسی فورسز سے متعلق خدشات

امریکی اخبار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کو خدشہ تھا کہ ایران سے وابستہ گروہ صدر ٹرمپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی سیکیورٹی ادارے کئی ہفتوں سے اس قسم کی اطلاعات کا جائزہ لے رہے تھے اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر صدر کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے گئے۔

ٹرمپ پہلے بھی ایران کو خبردار کر چکے ہیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر یہ بیان دے چکے ہیں کہ ایران سے وابستہ عناصر ان کی جان لینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر ان پر کسی قسم کا حملہ کیا گیا یا انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی تو ایران کو اس کے انتہائی سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ان بیانات کے بعد امریکی سیکیورٹی ادارے صدر کی حفاظت کے حوالے سے مزید محتاط ہو گئے تھے۔

اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات بھی زیرِ غور رہیں

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طیارہ تبدیل کیے جانے کے دوران ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ اسرائیل نے امریکا کے ساتھ ایران کی جانب سے ممکنہ حملے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات شیئر کی تھیں۔

بعض امریکی حکام نے ان اطلاعات پر مکمل اعتماد کا اظہار نہیں کیا اور ان کا خیال تھا کہ اسرائیلی معلومات کا مقصد امریکا کو ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات پر آمادہ کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

تاہم امریکی سیکیورٹی اداروں نے تمام ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے۔

وائٹ ہاؤس کا فوری ردعمل

وائٹ ہاؤس نے ممکنہ خطرے کی اطلاع ملنے کے بعد غیر معمولی تیزی سے صدر کے سفر کے منصوبے میں تبدیلی کی۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی امریکی صدر کے طیارے کو اچانک تبدیل کرنا ایک غیر معمولی فیصلہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں سیکیورٹی، لاجسٹکس اور متعدد اداروں کی فوری ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔

یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی حکام اس دھمکی کو معمولی نہیں سمجھ رہے تھے۔

امریکی صدر کی سیکیورٹی ہمیشہ اولین ترجیح

امریکی صدر دنیا کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ہر غیر ملکی دورے کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

ایئر فورس ون میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی، میزائل دفاعی نظام، محفوظ مواصلاتی سہولیات اور دیگر حساس آلات نصب ہوتے ہیں، جو ہنگامی حالات میں صدر کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔

اسی لیے کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری طور پر حفاظتی حکمت عملی تبدیل کرنا امریکی سیکیورٹی پالیسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

نتیجہ

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترکی سے واپسی کے دوران پیش آنے والے ایک اہم سیکیورٹی واقعے کو منظر عام پر لایا ہے۔ اگرچہ امریکی حکومت نے اس معاملے کی تمام تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کیں، تاہم رپورٹ کے مطابق ممکنہ ایرانی خطرے کے باعث صدر کا طیارہ تبدیل کرنا ایک احتیاطی اور غیر معمولی اقدام تھا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر رہنماؤں کی سیکیورٹی اور خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں