37

ٹرمپ کا بڑا اعلان، آبنائے ہرمز میں ہونے والے نقصانات ایران کے منجمد فنڈز سے پورے کرنے کا فیصلہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف ایک اور سخت مؤقف

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جنگ کے دوران تجارتی جہازوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ ایران کے منجمد فنڈز سے کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی مالی ذمہ داری ایران پر عائد ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے ایران کے منجمد اثاثے استعمال کیے جائیں۔


ٹروتھ سوشل پر اہم بیان جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آفیشل ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو جنگی صورتحال کے باعث بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے تمام نقصانات کی ادائیگی ایران کے منجمد فنڈز سے کی جائے گی کیونکہ ان کے مطابق یہی “منصفانہ راستہ” ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان کو ایران کے خلاف امریکی پالیسی میں مزید سختی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔


ایران کے منجمد فنڈز استعمال کرنے کی تجویز

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ مختلف ممالک اور کمپنیوں کے تجارتی جہاز اگر آبنائے ہرمز میں متاثر ہوتے ہیں تو ان کے نقصانات پورے کرنے کے لیے ایران کے بیرون ملک منجمد مالی اثاثے استعمال کیے جائیں۔

ان کے مطابق عالمی تجارت کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، اور اگر کسی تنازع کے باعث بحری تجارت متاثر ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری اس فریق پر ہونی چاہیے جسے امریکا اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔


آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔

اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا فوجی کارروائی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کے باعث شپنگ انشورنس، فریٹ چارجز اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔


امریکا کے فضائی حملے جاری

دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے مسلسل 13ویں روز بھی ایران کے مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے۔

اگرچہ ان حملوں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال بدستور انتہائی حساس قرار دی جا رہی ہے۔


عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ کئی ممالک نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور مزید کشیدگی سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان تنازع مزید بڑھا تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔


اقتصادی اثرات کا خدشہ

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بحری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

اسی وجہ سے دنیا بھر کی مالیاتی منڈیاں اور تیل کی مارکیٹ خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔


نتیجہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ہونے والے نقصانات کی تلافی ایران کے منجمد فنڈز سے کرنے کا اعلان امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب فضائی حملوں کے تسلسل نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری اس تنازع کے ممکنہ سیاسی، معاشی اور سفارتی اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں