36

جاپان میں 7.1 شدت کا تباہ کن زلزلہ، 13 افراد ہلاک، 50 سے زائد زخمی، ہنگامی حالت نافذ

جاپان ایک بار پھر شدید زلزلے کی زد میں

ٹوکیو (29 جولائی 2026) — جاپان میں 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مختلف حادثات میں کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں نے متعدد شہروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، شہری گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے جبکہ امدادی اداروں کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔

صوبہ کوماموٹو سب سے زیادہ متاثر

جاپانی حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبہ کوماموٹو کے قریب تھا، جہاں سب سے زیادہ نقصان ریکارڈ کیا گیا۔ طاقتور جھٹکوں سے درجنوں رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی مقامات پر سڑکوں میں دراڑیں پڑ گئیں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

مقامی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے۔

شاپنگ مال میں گیس لیکج سے دھماکہ

زلزلے کے بعد کوماموٹو کے معروف “ایون کوماموٹو” شاپنگ مال میں گیس لیکج کے باعث زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں عمارت کی دوسری منزل اور چھت منہدم ہو گئی، جس سے عمارت کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو ملبے سے نکالا جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بلٹ ٹرین سروس معطل

زلزلے کے بعد جاپان کی مشہور بلٹ ٹرین سروس کو احتیاطی طور پر معطل کر دیا گیا۔ کئی ٹرینیں ہنگامی بریک لگنے کے باعث راستے میں رک گئیں جبکہ بعض مقامات پر ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات بھی پیش آئے۔

ریلوے حکام نے تمام ٹریکس کا ہنگامی معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے اور سروس بحال کرنے سے قبل مکمل حفاظتی جانچ یقینی بنائی جا سکے۔

ہوائی اڈوں پر بھی شدید اثرات

زلزلے کے باعث کوماموٹو ایئرپورٹ کا رن وے عارضی طور پر بند کر دیا گیا جبکہ ٹوکیو ایئرپورٹ پر بھی درجنوں ملکی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

ہزاروں مسافر ایئرپورٹس پر پھنس گئے جبکہ ایئرلائنز نے متاثرہ پروازوں کے مسافروں کے لیے متبادل انتظامات شروع کر دیے ہیں۔

ٹیلی مواصلات اور بجلی کا نظام متاثر

شدید زلزلے کے بعد کئی علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی جبکہ بجلی کی فراہمی میں بھی تعطل پیدا ہوا۔ ہنگامی سروسز کو متبادل ذرائع سے فعال رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ امدادی کارروائیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

متعدد علاقوں میں شہریوں کو صرف ہنگامی ضروریات کے لیے ٹیلی فون استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

61 سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ

جاپانی محکمہ موسمیات کے مطابق مرکزی زلزلے کے بعد اب تک 61 سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران مزید طاقتور جھٹکے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کمزور عمارتوں سے دور رہیں اور سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں۔

وزیراعظم ثناء تاکایچی کا ہنگامی اعلان

جاپانی وزیراعظم ثناء تاکایچی نے زلزلے کے بعد فوری ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف مستند سرکاری معلومات پر اعتماد کریں۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے اور زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

سات صوبوں میں ہائی الرٹ

حکومت نے ممکنہ مزید آفٹر شاکس کے پیش نظر ملک کے سات صوبوں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں، فوج، فائر بریگیڈ اور طبی عملہ مکمل طور پر متحرک ہے جبکہ عارضی شیلٹرز قائم کر دیے گئے ہیں جہاں متاثرہ شہریوں کو خوراک، پانی اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

سونامی وارننگ واپس، مگر خطرہ برقرار

جاپانی محکمہ موسمیات نے ابتدائی طور پر جاری کی گئی سونامی وارننگ بعد ازاں واپس لے لی ہے کیونکہ سمندر میں خطرناک لہریں پیدا ہونے کا امکان کم ہو گیا تھا۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے تک شدید آفٹر شاکس کا خدشہ موجود رہے گا، اس لیے عوام کو ہر وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

جاپان کی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت

جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے اکثر آتے ہیں، اسی وجہ سے وہاں جدید تعمیراتی معیار، مؤثر ایمرجنسی سسٹم اور عوامی آگاہی کے پروگرام موجود ہیں۔ حالیہ زلزلے کے بعد بھی امدادی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کی، تاہم نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے آنے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔

نتیجہ

7.1 شدت کے اس تباہ کن زلزلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ قدرتی آفات کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جاپانی حکومت، امدادی ادارے اور شہری مل کر متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے سرگرم ہیں۔ ماہرین کی جانب سے مزید آفٹر شاکس کے خدشے کے باعث عوام کو مسلسل احتیاط اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں