امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر، ایران کے جواب کا انتظار

44

وائٹ ہاؤس کی باضابطہ تصدیق

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے طے شدہ دورہ پاکستان کے مؤخر ہونے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ دورہ آج ہونے والے اہم مذاکرات کے تناظر میں شیڈول تھا، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث اسے فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔

ایران کے ردعمل کا انتظار

تفصیلات کے مطابق امریکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایران کی جانب سے کسی حتمی پیشکش یا واضح جواب سامنے نہ آنے کے باعث کیا گیا۔ واشنگٹن اس وقت تہران کے ممکنہ مؤقف کا انتظار کر رہا ہے تاکہ آئندہ کی سفارتی حکمت عملی طے کی جا سکے۔

امریکی ٹی وی چینل “سی این این” کے مطابق جے ڈی وینس کا دورہ اس لیے مؤخر کیا گیا کیونکہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران پہلے اپنی پوزیشن واضح کرے، جس کے بعد ہی کسی اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقات کو حتمی شکل دی جائے۔

دورہ منسوخ نہیں، صرف مؤخر

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ نائب صدر کا دورہ مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ اسے عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی حالات سازگار ہوں گے اور ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی، دورے کا نیا شیڈول جاری کیا جا سکتا ہے۔

ایران کا محتاط مؤقف

دوسری جانب ایران نے بھی اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابھی تک مذاکرات کے لیے اپنا وفد پاکستان بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اسی صورت میں مذاکرات میں شرکت کرے گا جب اسے یقین ہوگا کہ بات چیت کسی مثبت اور نتیجہ خیز سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کی سفارتی تیاری

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور حکومت کی جانب سے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اسلام آباد اس معاملے میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

پہلے کون’ کی سفارتی کشمکش

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال دراصل امریکا اور ایران کے درمیان ایک سفارتی کشمکش کی عکاسی کرتی ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے سے پہلے اقدام کی توقع کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہم پیش رفت فی الحال رکی ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک کسی ایک فریق کی جانب سے واضح قدم نہیں اٹھایا جاتا، اس طرح کے اعلیٰ سطحی دوروں اور مذاکرات میں پیش رفت مشکل دکھائی دیتی ہے۔

عالمی نظریں تہران پر مرکوز

فی الوقت عالمی برادری کی نظریں ایران کے اگلے اقدام پر مرکوز ہیں۔ اگر تہران کی جانب سے مثبت اشارہ سامنے آتا ہے تو نہ صرف مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ جے ڈی وینس کے دورہ پاکستان کا نیا شیڈول بھی جلد سامنے آ سکتا ہے۔

اختتامیہ:

امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر ہونا بظاہر ایک عارضی رکاوٹ ہے، تاہم یہ خطے میں جاری سفارتی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ایران کے فیصلے اور امریکا کے ردعمل سے ہی طے ہوگا کہ یہ مذاکرات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں