وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے اور دنیا کے وسیع تر مفاد میں اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ڈیل کے لیے لچک ضرور دکھائی ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکا اپنی شرائط سے پیچھے ہٹ جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے باوجود امریکا نے ایران کے خلاف اپنا اقتصادی دباؤ کم نہیں کیا۔ “آپریشن اکنامک فیوری” کے تحت ایران پر پابندیاں بدستور نافذ ہیں، جبکہ بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھی گئی ہے تاکہ ایران کو مؤثر طریقے سے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ امریکا کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ اقدام اعتماد سازی کے لیے نہایت اہم ہے اور اسی کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے حوالے سے کسی قسم کی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور جب مناسب سمجھیں گے، وہ آئندہ کے اقدامات کا اعلان کریں گے، جس میں ممکنہ طور پر جنگ سے متعلق ٹائم لائن بھی شامل ہو سکتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کیرولین لیوٹ نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے جواب کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے مثبت ردعمل دیا تو مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جائے گا، تاہم اگر ایران نے تاخیر یا انکار کیا تو امریکا اپنے دیگر آپشنز پر بھی غور کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے ایک متفقہ اور واضح جواب چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران کو اپنی تمام شرائط سے آگاہ کر دیا ہے اور اب فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے۔
کیرولین لیوٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی سے مطمئن ہے اور اسے ایک مؤثر اقدام سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے ایران کی معاشی سرگرمیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جس کا مقصد اسے مذاکرات کے لیے آمادہ کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا کی موجودہ پالیسی دباؤ اور سفارتکاری کا مرکب ہے، جس میں ایک جانب اقتصادی پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں، جبکہ دوسری جانب مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کو ایسی پوزیشن میں لانا ہے جہاں وہ امریکی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے تاحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی سطح پر اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں ایران کا جواب نہایت اہمیت کا حامل ہوگا، جو خطے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کا رخ متعین کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی برادری بھی اس معاملے پر متحرک دکھائی دیتی ہے اور کئی ممالک دونوں فریقین کو صبر و تحمل سے کام لینے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم مستقل امن کے لیے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات ناگزیر ہیں۔