رپورٹ ۔۔۔فضہ حسین
پنجاب میں سرکاری تنصیبات چوری یا غیرقانونی فروخت پر سخت سزائیں، 3 سال قید اور کروڑوں روپے جرمانے کا قانون نافذ
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں سرکاری املاک اور عوامی سہولیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے “پنجاب پبلک یوٹیلٹیز انفراسٹرکچر پروٹیکشن آرڈیننس 2026ء” کی منظوری دے دی ہے۔ اس نئے قانون کا مقصد سرکاری تنصیبات کی چوری، توڑ پھوڑ، غیرقانونی تنصیب اُتارنے اور ان کی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ حالیہ برسوں میں مین ہول کورز، سٹریٹ لائٹس، حفاظتی باڑوں اور دیگر عوامی تنصیبات کی چوری کے واقعات میں اضافے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور حادثات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے پیش نظر یہ قانون متعارف کرایا گیا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق سرکاری تنصیبات میں مین ہول کور، سٹریٹ لائٹس، سڑکوں کے اطراف لگائی گئی حفاظتی باڑ، پلوں اور شاہراہوں پر نصب لوہے یا دیگر دھاتی ڈھانچے اور دیگر عوامی انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ ان تنصیبات کو نقصان پہنچانا یا انہیں غیرقانونی طور پر ہٹانا قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور عوامی وسائل کی حفاظت کے لیے ناگزیر تھا۔
قانون کے تحت اگر کوئی شخص سرکاری تنصیبات کی چوری میں ملوث پایا گیا تو اسے ایک سے تین سال تک قید کی سزا سنائی جا سکے گی، جبکہ اس پر دو لاکھ سے لے کر تیس لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی فرد یا گروہ بغیر اجازت سرکاری تنصیبات کو اُتارتا ہے یا ان کی خرید و فروخت میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے بھی ایک سے تین سال تک قید اور پانچ لاکھ سے تیس لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس قانون کے ذریعے صرف چوروں ہی نہیں بلکہ خرید و فروخت میں شامل نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ اس غیرقانونی کاروبار کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
مزید برآں، اگر کوئی شخص سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچاتا ہے، خواہ وہ چوری کی نیت سے ہو یا لاپرواہی کے باعث، تو اس کے لیے تین ماہ سے ایک سال تک قید اور پچاس ہزار سے دو لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس شق کا مقصد ان افراد کو بھی قانون کے دائرے میں لانا ہے جو براہِ راست چوری میں شامل نہ ہوں مگر اپنے عمل سے عوامی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
حکومت نے خاص طور پر سکریپ ڈیلرز اور ری رولنگ پلانٹس کے کردار پر بھی توجہ دی ہے۔ ماضی میں متعدد واقعات میں سامنے آیا کہ چوری شدہ مین ہول کورز اور دیگر دھاتی اشیاء سکریپ مارکیٹ میں فروخت کر دی جاتی تھیں۔ نئے آرڈیننس کے مطابق اگر کوئی سکریپ ڈیلر یا صنعتی یونٹ سرکاری تنصیبات کی غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث پایا گیا تو اسے تین سال تک قید اور دس لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر یہی جرم دوبارہ کیا جائے تو سزا مزید سخت ہو جائے گی، جس میں تین سے چھ سال تک قید اور تین لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانہ شامل ہو سکتا ہے۔
یہ قانون اس پہلو کو بھی مدنظر رکھتا ہے کہ بعض اوقات مین ہول کورز کی چوری یا سٹریٹ لائٹس کی عدم موجودگی کے باعث سنگین حادثات پیش آتے ہیں، جن میں شہری زخمی یا جاں بحق بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں، اگر کسی کی جان کو نقصان پہنچتا ہے تو معاملہ صرف اس آرڈیننس تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان پینل کوڈ کے تحت بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ مجرم کو مزید سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر یہ قانون خاص طور پر ان مافیا گروہوں اور منظم گینگز کے خلاف بنایا گیا ہے جو سرکاری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی سہولیات کی بحالی پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور ان کی چوری نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔ مثال کے طور پر کھلے مین ہول شہریوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ سٹریٹ لائٹس کی چوری سے جرائم میں اضافہ اور ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نئے قانون کے نفاذ کے بعد متعلقہ اداروں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی کریں، غیرقانونی سکریپ یارڈز کے خلاف کارروائی کریں اور ملزمان کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ صوبے میں سرکاری تنصیبات کی چوری کے واقعات میں نمایاں کمی آئے گی اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
مجموعی طور پر پنجاب پبلک یوٹیلٹیز انفراسٹرکچر پروٹیکشن آرڈیننس 2026ء ایک سخت اور جامع قانون کے طور پر سامنے آیا ہے جس کا مقصد عوامی املاک کا تحفظ، مجرم عناصر کی بیخ کنی اور شہریوں کے لیے محفوظ انفراسٹرکچر کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے نہ صرف چوری کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ سرکاری وسائل کا ضیاع بھی روکا جا سکے گا