رپورٹ۔۔۔ فضہ حسین
بیرسٹر گوہر کا فیصلہ میرے لیے حکم، علیمہ خان پر آئندہ لب کشائی نہیں کروں گا: شیر افضل مروت کا اعلان
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارٹی قیادت کے ردعمل کے بعد واضح اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ علیمہ خان کے بارے میں نہ کوئی مثبت اور نہ ہی منفی بیان دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کی بات ان کے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے اور وہ اس ہدایت کی مکمل پاسداری کریں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ قیادت کی رائے اور فیصلے پارٹی نظم و ضبط کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کسی بھی فرد کے لیے جھوٹے الزامات کو برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا، اور اپنی صفائی پیش کرنا ایک فطری تقاضا ہے، تاہم بعض اوقات خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر راستہ ثابت ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کسی پر الزامات لگتے ہیں تو اس کا ردعمل دینا انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ ایک شخص اپنی عزت اور ساکھ کے تحفظ کے لیے بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے، کیونکہ مسلسل خاموشی بعض اوقات خود پر ظلم محسوس ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اجتماعی مفاد اور باہمی احترام کو ترجیح دینا زیادہ ضروری ہے۔
شیر افضل مروت نے اپنے بیان میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک کہاوت مشہور ہے کہ ایک ہندو نے اپنے مسلمان دوست کی خاطر گائے کا گوشت کھا لیا، صرف دوستی اور احترام کے اظہار کے طور پر۔ اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ وہ بھی پارٹی قیادت اور ساتھی رہنماؤں کے احترام میں اپنا ردعمل قربان کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ انہوں نے ذاتی انا یا اختلاف سے بالاتر ہو کر کیا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر بیرسٹر گوہر کے ساتھ ساتھ شاندانہ گلزار اور شہریار آفریدی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں کے احترام میں وہ آئندہ اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے قیادت کا احترام سب سے مقدم ہے اور وہ پارٹی اتحاد کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔
شیر افضل مروت نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقدس مہینے میں یہ عہد کرتے ہیں کہ آئندہ علیمہ خان کے متعلق نہ کوئی اچھا کلمہ کہیں گے اور نہ ہی کوئی تنقیدی بیان دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو یہیں ختم سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پارٹی کے اندر مزید کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو۔
انہوں نے اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر کی ہدایت ان کے لیے حکم کی حیثیت رکھتی ہے، اور وہ اس پر مکمل طور پر عمل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نظم و ضبط اور قیادت کے فیصلوں کی پاسداری ہر کارکن اور رکن اسمبلی کی ذمہ داری ہے، اور وہ اس ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر شیر افضل مروت نے کہا کہ آئندہ اس معاملے میں ان سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ انہوں نے زور دے کر کہا، “میرا وعدہ ہے اور میرا وعدہ میرا قرض ہوتا ہے۔” اس جملے کے ذریعے انہوں نے اپنے عزم اور سنجیدگی کو اجاگر کیا اور واضح کیا کہ وہ اپنے اعلان پر قائم رہیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان پارٹی کے اندر اختلافات کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف بیانات اور جوابی بیانات کے باعث سیاسی فضا میں کچھ تناؤ پیدا ہوا تھا، تاہم شیر افضل مروت کے اس اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔
پارٹی حلقوں میں بھی اس بیان کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اندرونی اتحاد اور قیادت کا احترام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ رمضان المبارک جیسے روحانی مہینے میں اس نوعیت کا اعلان سیاسی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یوں شیر افضل مروت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ قیادت کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں اور آئندہ علیمہ خان کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کریں گے۔ ان کے اس اعلان نے نہ صرف جاری بحث کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے بلکہ پارٹی نظم و ضبط کے حوالے سے ایک واضح پیغام بھی دیا ہے کہ اجتماعی مفاد کو ذاتی اختلافات پر فوقیت دی جائے گی۔
28