غرور کا انجام عبرتناک: جنوبی افریقا کے ہاتھوں 76 رنز کی شکست کے بعد بھارتی براڈکاسٹر کو طنزیہ پرومو ہٹانا پڑگیا 25

غرور کا انجام عبرتناک: جنوبی افریقا کے ہاتھوں 76 رنز کی شکست کے بعد بھارتی براڈکاسٹر کو طنزیہ پرومو ہٹانا پڑگیا

رپورٹ۔۔۔۔۔ فضہ حسین
غرور کا انجام عبرتناک: جنوبی افریقا کے ہاتھوں 76 رنز کی شکست کے بعد بھارتی براڈکاسٹر کو طنزیہ پرومو ہٹانا پڑگیا
کے سپر 8 مرحلے میں ایک سنسنی خیز مقابلے نے نہ صرف کرکٹ شائقین کو حیران کر دیا بلکہ میچ سے قبل کی گئی پیش گوئیوں اور طنزیہ مہمات کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا۔
South Africa national cricket team
نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے
India national cricket team
کو 76 رنز کے واضح فرق سے شکست دے کر سب کو چونکا دیا۔
میچ سے قبل ایک بھارتی براڈکاسٹر کی جانب سے نشر کیا گیا طنزیہ پرومو اس وقت الٹا پڑ گیا جب نتیجہ توقعات کے برعکس نکلا۔ اشتہار میں جنوبی افریقا کو کمزور اور بھارت کو ناقابلِ شکست ٹیم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ پرومو میں کپ کیک کو بطور استعارہ استعمال کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا کہ بھارت کی جیت یقینی ہے اور تاریخ خود کو دہرانے والی ہے۔ اس تخلیقی انداز میں جنوبی افریقا کو ایک ایسی ٹیم کے طور پر دکھایا گیا جو بھارت کے سامنے زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکے گی۔
تاہم میدان میں منظر نامہ یکسر مختلف تھا۔ جنوبی افریقا نے بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں متوازن اور جارحانہ کھیل پیش کیا۔ ان کے بلے بازوں نے ابتدا ہی سے اعتماد کے ساتھ رنز اسکور کیے اور بھارتی باؤلرز کو دباؤ میں رکھا۔ مقررہ اوورز میں بڑا ہدف دینے کے بعد پروٹیز باؤلرز نے نپی تلی لائن اور لینتھ کے ساتھ بھارتی بیٹنگ لائن کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔
بھارتی ٹیم، جسے میچ سے قبل واضح فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا، دباؤ کا شکار دکھائی دی۔ اہم کھلاڑی توقعات پر پورا نہ اتر سکے اور وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔ مطلوبہ رن ریٹ بڑھتا گیا اور بالآخر پوری ٹیم ہدف کے قریب بھی نہ پہنچ سکی۔ 76 رنز کی شکست نہ صرف اس میچ کا نتیجہ بنی بلکہ پہلے سے کی گئی طنزیہ تشہیر کے برعکس ایک واضح پیغام بھی دے گئی کہ کھیل میں کوئی نتیجہ پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتا۔
میچ کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر بھارتی براڈکاسٹر کے اشتہار کو لے کر شدید ردعمل سامنے آیا۔ صارفین نے اسے قبل از وقت غرور اور غیر ضروری طنز قرار دیا۔ متعدد افراد نے نشاندہی کی کہ کھیل میں احترام اور احتیاط ضروری ہوتی ہے کیونکہ نتیجہ ہمیشہ کارکردگی سے جڑا ہوتا ہے، نہ کہ دعوؤں سے۔ بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد متنازع پرومو خاموشی سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اشتہاری مہمات بعض اوقات ٹیموں پر غیر محسوس دباؤ بھی ڈالتی ہیں۔ جب کسی ٹیم کو ضرورت سے زیادہ برتری کا تاثر دیا جائے تو کھلاڑی ذہنی طور پر دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب مخالف ٹیم اس قسم کے مواد کو بطور محرک استعمال کرتی ہے اور خود کو ثابت کرنے کے لیے مزید پُرعزم ہو جاتی ہے۔ جنوبی افریقا کی کارکردگی میں بھی یہی عزم نمایاں دکھائی دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کھیل سے پہلے کیے گئے دعوے بعد میں الٹے ثابت ہوئے ہوں۔ کرکٹ کی تاریخ ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں فیورٹ ٹیم کو غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی غیر یقینی پن اس کھیل کی خوبصورتی بھی ہے۔ ایک دن کی کارکردگی پوری تصویر بدل سکتی ہے۔
جنوبی افریقا کی اس کامیابی نے سپر 8 مرحلے کی صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ ٹیم نے ثابت کیا کہ وہ بڑے مقابلوں میں دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب بھارت کو اپنی حکمت عملی اور تیاریوں پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تاکہ اگلے مقابلوں میں واپسی کی جا سکے۔
سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ کھیل میں احترام بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ اشتہارات اور پروموز اگرچہ تفریح کا حصہ ہوتے ہیں، مگر جب وہ حریف ٹیم کی تضحیک کی حد تک پہنچ جائیں تو نتیجہ منفی بھی نکل سکتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ اصل فیصلہ میدان میں ہوتا ہے، نہ کہ تشہیری مہمات میں۔
آخرکار یہ مقابلہ اس حقیقت کی یاد دہانی بن کر سامنے آیا کہ کھیل میں غرور کی کوئی گنجائش نہیں۔ جنوبی افریقا نے اپنے کھیل سے جواب دیا جبکہ قبل از وقت جشن منانے والوں کو خاموشی اختیار کرنا پڑی۔ کرکٹ کا حسن ہی یہی ہے کہ یہاں آخری گیند تک کچھ بھی یقینی نہیں ہوتا، اور اصل طاقت کارکردگی میں ہوتی ہے، دعوؤں میں نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں