آسٹریلیا سیریز سے قبل پاکستان ٹیم کو بڑا دھچکا، فخر زمان اور صائم ایوب دستیاب نہیں!

27

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز سے قبل قومی ٹیم کے مداحوں کے لیے اہم اپ ڈیٹ جاری کر دی ہے۔ پی سی بی کے مطابق قومی ٹیم کے اوپنرز فخر زمان اور صائم ایوب انجریز کے باعث سلیکشن کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔ دونوں کھلاڑی اس وقت ری ہیب اور ریکوری کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فخر زمان اور صائم ایوب مکمل فٹنس حاصل کرنے کے لیے میڈیکل اسٹاف کی نگرانی میں بحالی پروگرام پر عمل کر رہے ہیں۔ بورڈ نے دونوں کرکٹرز کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

پی سی بی کی جانب سے اہم اپ ڈیٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے آفیشل بیان میں بتایا کہ دونوں کھلاڑیوں کی انجریز کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مکمل آرام اور بحالی کا وقت دیا جا رہا ہے تاکہ وہ مستقبل کی سیریز میں مکمل فٹنس کے ساتھ ٹیم میں واپسی کر سکیں۔

بیان کے مطابق:

“فخر زمان اور صائم ایوب اس وقت انجریز سے ریکوری کے عمل سے گزر رہے ہیں اور سلیکشن کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔ دونوں کھلاڑی پی سی بی میڈیکل اسٹاف کی نگرانی میں ری ہیب پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں۔”

پی سی بی نے مزید کہا کہ قومی اسکواڈ اور دیگر کھلاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے مزید اپ ڈیٹس جلد جاری کی جائیں گی۔

قومی ٹیم کے لیے بڑا نقصان

فخر زمان اور صائم ایوب کی عدم دستیابی پاکستان ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے۔ فخر زمان اپنی جارحانہ بیٹنگ کے باعث محدود اوورز کرکٹ میں پاکستان کے اہم بیٹر مانے جاتے ہیں جبکہ نوجوان اوپنر صائم ایوب حالیہ عرصے میں شاندار کارکردگی کے باعث ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط بنا چکے ہیں۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق دونوں اوپنرز کی غیر موجودگی میں پاکستان ٹیم کو آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف بیٹنگ لائن اپ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر پاور پلے میں جارحانہ آغاز کی کمی ٹیم پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان پہنچے گی

واضح رہے کہ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم 23 مئی کو اسلام آباد پہنچ رہی ہے جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے میچز کی سیریز کھیلی جائے گی۔ سیریز کے میچز 30 مئی، 2 جون اور 4 جون کو شیڈول ہیں۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مقابلے ہمیشہ سے شائقین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ اس بار بھی کرکٹ فینز کو ایک سنسنی خیز سیریز کی امید ہے، تاہم قومی ٹیم کو اہم کھلاڑیوں کی انجریز کے باعث مشکلات درپیش ہیں۔

متبادل اوپنرز پر غور

فخر زمان اور صائم ایوب کی غیر موجودگی کے بعد سلیکشن کمیٹی متبادل اوپنرز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیے جانے کا امکان ہے جبکہ تجربہ کار بیٹرز کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

شائقین کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ قومی ٹیم مینجمنٹ اوپننگ جوڑی کے طور پر کن کھلاڑیوں پر اعتماد کرتی ہے۔ بعض کرکٹ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹیم انتظامیہ تجربہ اور نوجوان ٹیلنٹ کا امتزاج استعمال کر سکتی ہے۔

محمد رضوان کا بیان بھی توجہ کا مرکز

دوسری جانب قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان بھی حالیہ دنوں میں خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیشی کرکٹرز لٹن داس اور نجم الحسن شانٹو کے طنزیہ بیانات پر محمد رضوان نے کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم ہمیشہ میدان میں اپنی کارکردگی سے جواب دینا جانتی ہے۔

رضوان کے اس بیان کو شائقین نے خوب سراہا اور سوشل میڈیا پر ان کی حمایت میں مختلف پیغامات بھی سامنے آئے۔

شائقین کو ٹیم کے اعلان کا انتظار

پاکستان کرکٹ بورڈ جلد آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے مکمل اسکواڈ کا اعلان کرے گا۔ شائقین کو امید ہے کہ قومی ٹیم مضبوط کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترے گی اور ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کو سخت مقابلہ دے گی۔

کرکٹ حلقوں میں یہ بھی بحث جاری ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ سیریز اپنی صلاحیتیں منوانے کا بہترین موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر نئے کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو مستقبل میں قومی ٹیم کو مزید مضبوط بینچ اسٹرینتھ حاصل ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں