سندھ فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائی، دو ملزمان گرفتار
Karachi (25 مئی 2026) — صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے جہانگیر روڈ میں Sindh Food Authority نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے والے ایک غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ حکام نے کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں مردہ مرغیاں برآمد کر کے سلاٹر ہاؤس کو فوری طور پر سیل کر دیا جبکہ دو ملزمان کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع موصول ہونے کے بعد کی گئی جہاں شہریوں کو مضرِ صحت گوشت فروخت کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے چھاپے کے دوران ناقص صفائی، گندگی اور غیر انسانی ماحول میں گوشت تیار کیے جانے کے شواہد بھی حاصل کیے۔
بھاری مقدار میں مردہ مرغیاں برآمد
کارروائی کے دوران حکام نے فریزرز اور مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں مردہ مرغیاں برآمد کیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گوشت مختلف ہوٹلوں، دکانوں اور عوام کو فروخت کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سندھ فوڈ اتھارٹی کے مطابق سلاٹر ہاؤس میں گوشت محفوظ کرنے کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے جبکہ فریزرز میں شدید کراس کنٹیمنیشن پائی گئی، جس کے باعث مختلف اشیاء ایک دوسرے سے آلودہ ہو رہی تھیں۔
سلاٹر ہاؤس کا ماحول انتہائی ناقص قرار
حکام نے بتایا کہ چھاپے کے دوران سلاٹر ہاؤس کا ماحول انتہائی گندا، بدبودار اور صحت کے اصولوں کے خلاف پایا گیا۔ زنگ آلود آلات استعمال کیے جا رہے تھے جبکہ جگہ جگہ مکھیوں کی بھرمار موجود تھی۔
اس کے علاوہ کھلے ڈسٹ بن، گندا پانی اور عملے کی ذاتی صفائی کے ناقص انتظامات بھی سامنے آئے۔ فوڈ سیفٹی ماہرین کے مطابق ایسے ماحول میں تیار ہونے والا گوشت انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد
سندھ فوڈ اتھارٹی نے سلاٹر ہاؤس کے مالکان پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مضرِ صحت خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور کسی کو عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
گرفتار کیے گئے دو ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ نیٹ ورک شہر کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلا ہوا تھا یا نہیں۔
صوبائی وزیرِ خوراک کا سخت مؤقف
صوبائی وزیرِ خوراک Makhdoom Mehboob uz Zaman نے کارروائی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو مضرِ صحت خوراک فراہم کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کی صحت اور محفوظ خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
مضرِ صحت گوشت انسانی صحت کے لیے خطرناک
ماہرینِ صحت کے مطابق مردہ یا خراب گوشت کا استعمال فوڈ پوائزننگ، معدے کی بیماریوں، انفیکشنز اور دیگر خطرناک امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ناقص صفائی اور غیر معیاری ماحول میں محفوظ کیا گیا گوشت صحت کے لیے سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ گوشت خریدتے وقت صفائی، معیار اور دکان کے ماحول کا ضرور جائزہ لیں اور مشکوک گوشت کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
شہریوں کا سخت ردِعمل
کراچی میں اس کارروائی کے بعد شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے مضرِ صحت خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں، اس لیے ان کے خلاف صرف جرمانے نہیں بلکہ سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی شہریوں کی صحت سے کھیلنے کی جرات نہ کرے۔
سندھ فوڈ اتھارٹی کی مزید کارروائیوں کا اعلان
سندھ فوڈ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ شہر بھر میں ہوٹلوں، سلاٹر ہاؤسز، بیکریوں اور دیگر فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ مزید سخت کی جائے گی تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جا سکے۔
حکام کے مطابق شہری بھی خوراک سے متعلق شکایات براہِ راست فوڈ اتھارٹی کو رپورٹ کر سکتے ہیں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔